اسلام آباد میں صفائی کی نگرانی کے لیے محلّہ کمیٹیاں قائم کرنے کا فیصلہ
لام آباد: وفاقی دارالحکومت میں صفائی اور سینی ٹیشن کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے محلوں کی سطح پر کمیٹیاں قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، تاکہ شہریوں کو بھی نگرانی کے عمل میں شامل کیا جا سکے۔
سی ڈی اے کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے چیئرمین محمد علی رندھاوا نے ہدایت کی کہ فوری طور پر نیبرہڈ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں اور صفائی کے مسائل کے حل کیلئے جامع نظام وضع کیا جائے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ سینی ٹیشن سروسز کی آؤٹ سورسنگ کیلئے ٹینڈرنگ کے عمل میں تکنیکی وجوہات کی بنا پر تاخیر کا سامنا ہے، جس کے باعث عارضی طور پر نئی مشینری کی فراہمی اور دیگر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
فیصلہ کیا گیا کہ شہر بھر میں کچرا اٹھانے کیلئے جدید مشینری اور اضافی عملہ فراہم کیا جائے گا، جبکہ شہری و دیہی علاقوں میں کچرا کنٹینرز اور ٹرالیز کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔ خراب کنٹینرز کی مرمت اور مختلف مقامات پر ڈسٹ بنز کی تنصیب بھی کی جائے گی۔
چیئرمین سی ڈی اے نے ہدایت کی کہ تجارتی مراکز میں تھری بن سسٹم متعارف کرایا جائے تاکہ کچرے کی علیحدگی اور ری سائیکلنگ کو فروغ دیا جا سکے، جبکہ تاجروں کو بھی صفائی مہم میں شامل کیا جائے۔
انہوں نے کچرا پھینکنے والوں کے خلاف جرمانے عائد کرنے اور اسلام آباد فوڈ اتھارٹی کو ریسٹورنٹس کے خلاف کارروائی کی ہدایت بھی کی۔
اجلاس میں 24 گھنٹے فعال کنٹرول روم قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا، جبکہ شہری شکایات کے ازالے کیلئے ہیلپ لائن نمبرز کو ڈیجیٹل اسکرینز پر نمایاں کرنے کی ہدایت دی گئی۔
حکام کے مطابق فیلڈ اسٹاف کو وائرلیس سیٹس اور نئی یونیفارمز فراہم کی جائیں گی، جبکہ کچرا چننے والے افراد کی رجسٹریشن اور لائسنسنگ کا عمل بھی شروع کیا جائے گا۔
سی ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات عارضی بنیادوں پر کیے جا رہے ہیں اور نئی آؤٹ سورسنگ پالیسی کے نفاذ تک جاری رہیں گے۔