ستھرا پنجاب پروگرام میں ایک ارب روپے سے زائد بے ضابطگیوں کا انکشاف
فیصل آباد ویسٹ مینیجمنٹ کمپنی کے متعدد افسران اور ٹھیکیدار تحقیقات کی زد میں
فیصل آباد: ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت فیصل آباد میں صفائی کے انتظامات سے متعلق ایک ارب روپے سے زائد کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے بعد فیصل آباد ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (ایف ڈبلیو ایم سی) کے متعدد افسران اور نجی ٹھیکیداروں کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔
تحقیقات کے مطابق مبینہ طور پر سرکاری ریکارڈ میں صفائی کے آلات، کنٹینرز، ملازمین اور دیگر سہولیات کی تعداد بڑھا چڑھا کر ظاہر کی گئی، جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (اے سی ای) کی ابتدائی تحقیقات میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ بعض افسران اور کنٹریکٹرز نے مبینہ ملی بھگت سے ڈیجیٹل ریکارڈ اور آپریشنل ڈیٹا میں ردوبدل کیا۔
رپورٹس کے مطابق کاغذات میں 2,317 ویسٹ کنٹینرز ظاہر کیے گئے جبکہ زمینی حقائق میں ان کی تعداد 1,717 پائی گئی۔ اسی طرح 633 مبینہ "گھوسٹ” سینیٹری ورکرز کے نام پر تنخواہوں کی ادائیگی اور ویسٹ انکلوژرز کی تعداد میں بھی فرق سامنے آیا ہے۔
اینٹی کرپشن حکام نے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر سمیت متعدد افسران اور کنٹریکٹرز کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے جبکہ بعض افراد کی گرفتاریوں کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ دوسری جانب بعض رپورٹس کے مطابق مزید گرفتاریوں اور کارروائی کے حوالے سے تحقیقات کا عمل جاری ہے۔
صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ جدید مانیٹرنگ اور ڈیجیٹل نگرانی کے نظام کے ذریعے بے ضابطگیوں کا سراغ لگا کر معاملہ فوری طور پر اینٹی کرپشن حکام کے سپرد کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی اور قومی خزانے کو ہونے والے نقصان کی وصولی کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔
ستھرا پنجاب پروگرام وزیراعلیٰ پنجاب کے فلیگ شپ منصوبوں میں شامل ہے، جس کا مقصد صوبے بھر میں شہری اور دیہی علاقوں میں صفائی کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔ حالیہ انکشافات کے بعد منصوبے میں نگرانی، شفافیت اور احتساب کے نظام پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔