بلدیاتی قانون میں ترامیم سے قبل تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے، بلدیاتی نمائندوں کا مطالبہ

مانسہرہ: ضلع مانسہرہ کی تحصیل بالاکوٹ کونسل کے اراکین نے خیبرپختونخوا حکومت پر زور دیا ہے کہ آئندہ بلدیاتی انتخابات سے قبل لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 میں کسی بھی قسم کی ترمیم سے پہلے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز اور منتخب بلدیاتی نمائندوں سے مشاورت کی جائے تاکہ ایک مؤثر اور بااختیار بلدیاتی نظام تشکیل دیا جا سکے۔

تحصیل کونسل کی چار سالہ مدت مکمل ہونے کے موقع پر منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین تحصیل کونسل ابراہیم شاہ نے کہا کہ ہزارہ ڈویژن میں اختتام پذیر ہونے والا بلدیاتی نظام صوبے کی تاریخ کا کمزور ترین نظام ثابت ہوا، کیونکہ منتخب نمائندوں کو ترقیاتی فنڈز اور انتظامی اختیارات سے محروم رکھا گیا، حالانکہ یہ اختیارات قانون میں موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نمائندے عوام سے کیے گئے انتخابی وعدے پورے کرنے میں اس لیے ناکام رہے کیونکہ انہیں وسائل اور اختیارات فراہم نہیں کیے گئے۔ ان کے مطابق انہوں نے 53 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے تھے اور بالاکوٹ کے عوام کی خدمت کا عزم رکھتے تھے، تاہم اختیارات کی کمی کے باعث عوام کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکے۔

اجلاس میں شریک کونسلرز نے اپنے چار سالہ دور میں برسراقتدار رہنے والی منتخب اور نگراں حکومتوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کسی بھی حکومت نے بلدیاتی اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے۔

ابراہیم شاہ نے کہا کہ مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ویلج اور نیبرہڈ کونسلوں کے چیئرمین پورے دور میں بلدیاتی نظام کے استحکام کے لیے متحد رہے۔

انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت سے مطالبہ کیا کہ صوبے بھر میں جلد از جلد بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں، تاہم ایسا نظام متعارف کرایا جائے جو حقیقی معنوں میں بااختیار، وسائل سے لیس اور عوامی خدمت کے قابل ہو۔

متعلقہ خبریں