نئے صوبوں، انتظامی اصلاحات اور بااختیار بلدیاتی نظام پر قومی مباحثہ
اسلام آباد: ملک میں بہتر طرزِ حکمرانی، عوامی مسائل کے مؤثر حل اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے لیے نئے صوبوں، نئے انتظامی یونٹس اور مضبوط بلدیاتی نظام کے قیام پر زور دیا گیا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، وفاقی وزراء، ماہرینِ معیشت، پالیسی سازوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان کے بڑھتے ہوئے انتظامی اور گورننس کے مسائل کے حل کے لیے جامع اصلاحات ناگزیر ہیں۔
یہ خیالات سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (SDPI) کے زیر اہتمام "کیا پاکستان میں مزید انتظامی یونٹس قائم کیے جائیں؟” کے عنوان سے منعقدہ قومی مباحثے میں سامنے آئے، جس میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، متحدہ قومی موومنٹ، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام (ف) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما، وفاقی وزراء، ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندگان شریک ہوئے۔
شرکاء نے نئے صوبوں کے قیام، انتظامی یونٹس میں اضافے، بلدیاتی اداروں کو مزید اختیارات، مالی خودمختاری، ادارہ جاتی اصلاحات اور عوامی ضروریات کے مطابق حکومتی ڈھانچے کی تشکیل جیسے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ کسی بھی انتظامی تبدیلی کا فیصلہ آئینی تقاضوں، عوامی حمایت، مالی وسائل، انتظامی استعداد اور عوامی خدمات پر اس کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جانا چاہیے۔
جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کے ساتھ ساتھ بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے اور مالی و آئینی اصلاحات پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ انہوں نے وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل اور پانی سمیت دیگر معاملات کے حل کے لیے کونسل آف کامن انٹرسٹس (CCI) کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کسی بھی انتظامی اصلاح کا اصل معیار یہ ہونا چاہیے کہ آیا اس سے عوام کو بہتر سہولیات اور حکومت تک آسان رسائی حاصل ہوتی ہے یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چھوٹے انتظامی یونٹس عوام اور حکومت کے درمیان فاصلے کم کر سکتے ہیں، تاہم مضبوط بلدیاتی نظام ہر صورت میں حکمرانی کا بنیادی ستون ہونا چاہیے۔
وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ عوام زیادہ تر اپنے منتخب نمائندوں سے سڑکوں، گلیوں، سیوریج اور دیگر بلدیاتی مسائل کے حل کے لیے رجوع کرتے ہیں، اس لیے مؤثر بلدیاتی نظام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا کہ نئے صوبوں سے متعلق بحث نئی نہیں، تاہم اس عمل کو اس انداز میں آگے بڑھایا جانا چاہیے کہ بین الصوبائی یا علاقائی حساسیت میں اضافہ نہ ہو۔ سابق رکن قومی اسمبلی ندیم افضل چن نے اتفاقِ رائے پر مبنی اصلاحاتی ایجنڈا تشکیل دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انتظامی اصلاحات کو عدالتی، انتخابی اور سیاسی اصلاحات کے ساتھ جوڑ کر دیکھنا چاہیے۔
سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے اختیارات کے حد سے زیادہ ارتکاز اور ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد میں کمی کو بڑے مسائل قرار دیتے ہوئے وفاق، صوبوں اور بلدیاتی اداروں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے لیے تین سطحی این ایف سی فارمولے کی تجویز پیش کی۔
تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پاکستان میں پہلے سے موجود ڈویژن، اضلاع اور تحصیلوں کو مزید اختیارات دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پنجاب کو تین صوبوں میں بھی تقسیم کیا جائے تو ہر صوبے کی آبادی کئی یورپی ممالک سے زیادہ ہوگی۔
معروف ماہرِ معیشت ڈاکٹر فرخ سلیم نے ادارہ جاتی اصلاحات کے بغیر بڑی تعداد میں نئے صوبے بنانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا اصل مسئلہ گورننس اور سرکاری اخراجات ہیں، نہ کہ صرف ٹیکس وصولی۔ سینئر صحافی محمد مالک نے بھی کہا کہ صرف انتظامی ڈھانچہ تبدیل کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے، بلکہ ادارہ جاتی رویوں اور سیاسی کلچر میں بھی اصلاحات ناگزیر ہیں۔
اختتامی خطاب میں ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلیری نے کہا کہ اس قومی مباحثے نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے بارے میں مختلف آراء موجود ہیں، تاہم مضبوط بلدیاتی نظام، مالی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور مؤثر عوامی خدمات پر تقریباً تمام شرکاء کا اتفاق پایا جاتا ہے۔