پنجاب پولیس میں احتساب کا دوہرا معیار؟
گریڈ 18 افسر معطل، گریڈ 19 افسر کے خلاف کارروائی تعطل کا شکار
لاہور: پنجاب پولیس میں پولیس سروس آف پاکستان (پی ایس پی) افسران اور صوبائی کیڈر کے رینکر افسران کے احتساب کے حوالے سے مبینہ ’’دوہری پالیسی‘‘ ایک بار پھر سوالات کی زد میں آ گئی ہے۔ حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے دو الگ الگ مقدمات نے اس فرق کو واضح کر دیا ہے، جہاں تقریباً یکساں نوعیت کے الزامات کے باوجود کارروائی کا معیار مختلف دکھائی دیا۔
لاہور میں تعینات گریڈ 18 کے صوبائی کیڈر کے افسر، ایس پی انویسٹی گیشن لاہور صدر میاں معظم کو ایک اعلیٰ سطحی انکوائری رپورٹ کی روشنی میں معطل کر دیا گیا۔ رپورٹ میں مبینہ طور پر غیر قانونی حراست اور ہراسانی کے الزامات کو درست قرار دیا گیا تھا، جس کے بعد نئے تعینات ہونے والے انسپکٹر جنرل پنجاب نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے انہیں معطل کر دیا۔
اس کے برعکس راولپنڈی میں تعینات گریڈ 19 کے پی ایس پی افسر، سٹی پولیس آفیسر (سی پی او) خالد ہمدانی کے خلاف درج شکایت تاحال عملی پیش رفت سے محروم ہے۔ ذرائع کے مطابق متاثرہ شہری کی درخواست آئی جی آفس سے واپس راولپنڈی ریجنل پولیس آفس بھیج دی گئی، جبکہ سی پی او خود اضافی طور پر آر پی او کا چارج بھی سنبھالے ہوئے ہیں اور انکوائری کے لیے درخواست ان کے ماتحت افسر کو مارک کر دی گئی، جس پر شفافیت کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔
متاثرہ شہری نے آئی جی آفس سے مایوس ہو کر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (اے سی ای) پنجاب سے بھی رجوع کیا، تاہم وہاں بھی کارروائی نہ ہو سکی۔ ڈی جی اے سی ای سہیل ظفر چٹھہ کے مطابق گریڈ 19 اور اس سے اوپر کے افسران کے خلاف انکوائری کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ اگرچہ 2024 کے ایک آرڈیننس کے ذریعے ڈی جی اے سی ای کے اختیارات محدود کیے گئے تھے، تاہم وہ آرڈیننس فروری 2025 میں ختم ہو چکا ہے اور اب اختیارات بحال ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود عملی طور پر کارروائی نہ ہونا سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔
لاہور کے کیس کی تفصیلات کے مطابق گرین ٹاؤن پولیس نے چند ماہ قبل سرگودھا کے ایک جوڑے کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کیا تھا۔ بعد ازاں سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں متاثرہ جوڑے نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے ان کے والدین اور دیگر اہل خانہ کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا اور ہراساں کیا۔ شکایات پر فوری نوٹس نہ لیا گیا اور جنوری 2026 میں مبینہ طور پر خودکشی سے چند لمحے قبل جوڑے نے ایک اور ویڈیو پیغام جاری کیا۔ واقعے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی جس کی رپورٹ میں الزامات درست قرار دیے گئے اور ایس پی کو معطل کر دیا گیا۔
دوسری جانب راولپنڈی کے شہری فیض احمد نے الزام عائد کیا کہ کاروباری تنازعے میں ان کے مخالف نے سکیورٹی چیکس کا غلط استعمال کیا۔ ابتدائی انکوائری میں ثبوت نہ ملنے پر درخواست نمٹا دی گئی، تاہم بعد میں نئے تعینات ایس ایچ او نے انہیں تھانے طلب کیا۔ فیض احمد کے مطابق انہیں آنکھوں پر پٹی باندھ کر ایک عمارت میں منتقل کیا گیا اور دو روز تک غیر قانونی حراست میں رکھا گیا، جہاں ان پر متعدد چیکس پر دستخط کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ سب سی پی او راولپنڈی کے احکامات پر ہوا۔
پولیس کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عہدوں پر پی ایس پی افسران کی بالادستی اور فیصلہ سازی پر ان کا اثر و رسوخ احتساب کے عمل کو متاثر کرتا ہے، جبکہ رینکر افسران کو نسبتاً جلد کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر احتساب کا نظام شفاف اور یکساں نہ ہو تو ادارے کی ساکھ اور عوام کا اعتماد متاثر ہوتا ہے۔
یہ دونوں واقعات پنجاب پولیس میں احتساب کے یکساں معیار، اختیارات کے استعمال اور اعلیٰ افسران کے خلاف کارروائی کے طریقہ کار پر سنجیدہ سوالات اٹھا رہے ہیں، جن کے جوابات اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔
(بشکریہ ڈان )