چشتیاں میں ڈاکٹر کا نوجوان پہ مبینہ تشدد
چشتیاں پولیس سیاسی دباؤ کی وجہ سے واقعہ کے مرکزی ملزم ڈاکٹر حمزہ کو ایف آئی آر میں نامزد کرنے سے لیت ولعل سے کام لے رہی ھے
چشتیاں(راناعبدالرشید) مختیار احمد نے میڈیا کو بتایا کہ 21/4/2026 کو انکا بیٹا حسیب علی گھر کے کام سے بازار جا رہا تھا کہ اچانک ریلوے لاٸن کے قریب اسکو 5.6 لوگوں نے روک کر ڈنڈے اور سوٹوں سے بری طرح مارا ملزمان دو سے تین موٹر سائیکل پر سوار تھے۔ اس دوران حسیب علی نے اپنی جان بچانے کی خاطر شور مچانا شروع کردیا تاہم کچھ لوگوں نے حسیب علی کی آواز کو سنتے ہوئے موقع پر پہنچ کر حسیب علی کی جان بچائی حسیب کو جسم کے مختلف حصوں پر چوٹیں آئیں جو کہ حسیب علی برداشت نہ کرسکا اور موقع پر ہی بیہوش ہوگیا۔
کہا جارہا ھے کہ سارا معاملہ مبینہ طور پر شاہد میموریل ہاسپٹل کے مالک ڈاکٹر حمزہ کے کہنے پر کرائے کے غنڈوں نے کیا ہے۔ جسکا اقرار اسماعیل نامی لڑکے نے دوران تفتیش یوسف اے ایس آئی کے روبرو ایک وڈیو بیان میں کیا ۔جبکہ سیاسی دباو کی وجہ سے اس سارے وقوعہ کے مین کردار ڈاکٹر حمزہ کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا ۔جس نے آزادانہ غنڈے پال رکھے ہیں ۔جو ڈاکٹر صاحب کے کہنے پر کسی کو بھی جان سے مار سکتے ھیں۔
اس واقعہ میں زخمی ھونے والے مضروب حسیب اور انکے لواحقین نے وزیراعلی مریم نواز شریف صاحبہ ۔اور آئی جی پنجاب، ڈی پی او بہاولنگر اور ڈی ایس پی چشتیاں سے مطالبہ کیا ھے کہ اس کیس کی انکوائری صاف اور شفاف طریقے سے کروا کر ملزمان کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔