بہاولپور: صحافی میاں زاہد اویسی پر حملہ، ایف آئی آر درج

  ایف آئی آر میں نامزد ملزمان کے خلاف تحقیقات جاری

بہاولپور (نمائندہ خصوصی) بہاولپور میں سینئر صحافی میاں زاہد اویسی پر مبینہ قاتلانہ حملے کے واقعے نے صحافی برادری میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ زخمی صحافی کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے بہاول وکٹوریہ ہسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق واقعے کے حوالے سے درج ایف آئی آر میں تین افراد کو نامزد کیا گیا ہے جن میں ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی ملک ظہیر چنڑ، رکن قومی اسمبلی ملک اقبال چنڑ اور ان کے ایک قریبی رشتہ دار شامل ہیں۔

زخمی صحافی میاں زاہد اویسی نے ہسپتال میں دیے گئے اپنے بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ ان پر حملہ ملک اقبال چنڑ کے کزن کی جانب سے مبینہ طور پر بھیجے گئے افراد نے کیا، جبکہ انہوں نے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی ملک ظہیر چنڑ اور رکن قومی اسمبلی ملک اقبال چنڑ کو بھی واقعے میں ملوث قرار دیا ہے۔ تاہم ان الزامات کی تاحال آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی اور نامزد افراد کا مؤقف بھی سامنے نہیں آیا۔

واقعے پر صحافی برادری اور مختلف صحافتی تنظیموں نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے آزادیٔ صحافت پر حملہ قرار دیا ہے۔ صحافی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بہاولپور ایک پُرامن شہر ہے اور کسی بھی شخص یا گروہ کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو ان کے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران ہراساں کرنا یا تشدد کا نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔

صحافی برادری نے مطالبہ کیا ہے کہ حملے میں ملوث عناصر کو فوری طور پر گرفتار کرکے قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور واقعے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات یقینی بنائی جائیں۔

دریں اثنا، تھانہ صدر بہاولپور کی حدود میں پیش آنے والے واقعے کا ڈی پی او بہاولپور رانا عبدالوہاب نے فوری نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو ضروری ہدایات جاری کیں۔ پولیس کے مطابق اطلاع ملتے ہی اہلکار موقع پر پہنچ گئے تھے اور زخمی صحافی کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔

ڈی پی او رانا عبدالوہاب کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جبکہ واقعے کے تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ادھر مختلف صحافتی حلقوں نے اس معاملے میں سیاسی اثر و رسوخ سے بالاتر ہو کر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ صحافتی تنظیموں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ محض مذمتی بیانات تک محدود رہنے کے بجائے صحافیوں کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کریں۔

متعلقہ خبریں