بلدیاتی نظام کی مضبوطی کے لیے مذاکرات کی ضرورت، ایم کیو ایم کا پیپلز پارٹی کو مشورہ

کراچی (اسٹاف رپورٹر) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم-پی) نے سندھ حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کو بلدیاتی نظام کی بہتری کے لیے مذاکرات کی دعوت دے دی ہے۔

کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سندھ اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف علی خورشیدی نے کہا کہ اگرچہ پی پی پی حکومت کے طرزِ حکمرانی پر ان کے شدید تحفظات ہیں، تاہم وسیع تر عوامی مفاد میں تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر ایک مؤثر اور مضبوط بلدیاتی نظام تشکیل دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 140-اے کے تحت بلدیاتی نظام کو مزید بااختیار بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ "آئینی ترامیم بعد میں بھی ہو سکتی ہیں، لیکن موجودہ قوانین میں بہتری لا کر نظام کو فعال بنایا جا سکتا ہے،” انہوں نے کہا۔

علی خورشیدی نے کراچی میں طرزِ حکمرانی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ شہریوں تک جمہوریت کے ثمرات نہیں پہنچ رہے، جس سے عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے ہیوی ٹریفک خصوصاً ڈمپر حادثات میں اضافے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حکام اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنے کے بجائے اسے لسانی رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم-پی نے ہمیشہ حکومت کو مسائل کے حل کے لیے تجاویز دی ہیں، مگر اس کے باوجود حادثات کا سلسلہ جاری ہے اور حکومت خاموش ہے۔

کے-فور منصوبے کے حوالے سے انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر عوام کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ پانی کا نظام تباہ ہو چکا ہے، مگر آواز اٹھانے پر اپوزیشن کو سیاست کرنے کا طعنہ دیا جاتا ہے۔

ایم کیو ایم رہنما نے دیگر سیاسی جماعتوں پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کراچی کے مسائل پر سیاسی سمجھوتے کیے ہیں۔ انہوں نے گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعات، ترقیاتی منصوبوں کی سست روی اور عید کے دوران بارشوں میں ناقص انتظامات کو بھی حکومت کی ناکامی قرار دیا۔

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ ترقیاتی فنڈز صرف حکومتی اراکین میں تقسیم کیے جا رہے ہیں جبکہ اپوزیشن کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبائی اسمبلی کا اجلاس بلا کر بجٹ سے قبل باقاعدہ بحث کرائی جائے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

متعلقہ خبریں