خیبر پختونخوا حکومت کا گڈ گورننس روڈ میپ 2.0 کا اجرا، اصلاحاتی ایجنڈا مزید وسیع

پشاور (بیورو رپورٹ) خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے گڈ گورننس روڈ میپ 2.0 کا باقاعدہ اجرا کر دیا ہے، جس کے تحت صوبے میں اصلاحاتی ایجنڈے کو مزید وسعت دی گئی ہے اور مختلف شعبوں میں مؤثر حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے متعدد اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق نئے روڈ میپ میں مزید 10 محکموں کو شامل کیا گیا ہے جبکہ 88 نئی اصلاحات متعارف کروائی گئی ہیں، جس سے مجموعی اقدامات کی تعداد 362 سے بڑھ کر 450 ہو گئی ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس روڈ میپ کی نگرانی اعلیٰ سطح پر کی جا رہی ہے اور عوامی خدمات کی فراہمی میں تاخیر کو سنگین انتظامی غفلت تصور کرتے ہوئے سخت کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے سیاحتی سیزن سے قبل متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ سیاحوں کے لیے محفوظ، خوشگوار اور سہولت سے بھرپور ماحول فراہم کیا جائے، جبکہ سیاحتی مقامات کی فوری بہتری اور انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کو یقینی بنایا جائے تاکہ صوبے کی سیاحتی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔

وزیر اعلیٰ نے نتھیا گلی روڈ کے پی سی-ون کی جلد تکمیل، سرکلر ریلوے منصوبے کے آغاز اور خیبر و مردان تک ریلوے توسیع کے ابتدائی کام کو آئندہ بجٹ سے قبل مکمل کرنے کی ہدایات بھی جاری کیں۔

انہوں نے ای-چالان سسٹم کے نفاذ، گاڑیوں کی ملکیت کی منتقلی کو آسان بنانے اور عوامی آگاہی مہمات کو تیز کرنے پر بھی زور دیا۔

حکام کے مطابق اس روڈ میپ کے تحت لینڈ ریکارڈ سروسز کو موبائل یونٹس کے ذریعے شہریوں کی دہلیز تک پہنچایا جائے گا، جبکہ نادرا کے ساتھ انضمام کے ذریعے شفاف اور بدعنوانی سے پاک لین دین کو یقینی بنایا جائے گا۔

ٹریفک نظام کی بہتری کے لیے جدید کیمروں پر مبنی مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرایا جائے گا، جبکہ اسکول زون سیفٹی پروگرام اور انجینئرنگ اقدامات کے ذریعے حادثات میں کمی لائی جائے گی۔

ماحولیاتی شعبے میں سموگ مانیٹرنگ سسٹمز، کلائمیٹ آبزرویٹریز اور زہریلے فضلے کی نگرانی کے نظام قائم کیے جائیں گے، جبکہ بلین ٹری پلس پروگرام کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔

ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ڈرائیونگ لائسنسز کی ڈیجیٹلائزیشن مکمل کی جائے گی اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت شہری ٹرانسپورٹ نظام کو بہتر بنایا جائے گا۔

حکام نے بتایا کہ انصاف تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے قانونی معاونت، قیدیوں کے لیے ٹیلی میڈیسن اور بحالی پروگرام شروع کیے جائیں گے، جبکہ ہنر مند قیدیوں کو صنعتوں سے منسلک کر کے ان کی بحالی کو یقینی بنایا جائے گا۔

محنت کشوں کے لیے ہیلتھ کوریج میں توسیع، خواتین کے لیے میٹرنٹی فوائد کا نفاذ اور کھیلوں کے میدانوں کی بہتری سمیت نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کرنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔

ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے شعبے میں ابتدائی وارننگ سسٹم اور متاثرین کو براہ راست ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو متعارف کرایا جائے گا، جبکہ ایمبولینس اور ریسکیو گاڑیوں میں جی پی ایس ٹریکنگ سے کارکردگی بہتر بنائی جائے گی۔

انتظامی اصلاحات کے تحت ای-پنشن سسٹم اور ایک مرکزی کنٹرول روم کے قیام سے حکومتی کارکردگی کی نگرانی کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔

حکام کے مطابق صحت کے شعبے میں 250 میں سے 150 بنیادی صحت مراکز کو 24 گھنٹے فعال بنایا جا چکا ہے جبکہ جون 2026 تک مکمل ہدف حاصل کر لیا جائے گا۔ اسی طرح پولیو مہم کو مزید علاقوں تک پھیلایا گیا ہے اور ویکسینیشن کی شرح میں تقریباً 24 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

بلدیاتی خدمات میں 2,500 کلومیٹر نالوں اور سیوریج لائنوں کی صفائی مکمل کی جا چکی ہے جبکہ دیہی علاقوں میں ویسٹ مینجمنٹ سسٹم فعال ہو کر ماہانہ 4,500 ٹن کچرا جمع کر رہا ہے۔

تعلیم کے شعبے میں ایک لاکھ سے زائد طلبہ کو فرنیچر فراہم کیا گیا جبکہ ہزاروں وظائف بھی دیے گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ گڈ گورننس روڈ میپ 2.0 کے تحت یہ تمام اقدامات شفافیت، ادارہ جاتی کارکردگی اور عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں، جن کے مثبت اثرات جلد سامنے آئیں گے۔

متعلقہ خبریں