دور دراز علاقوں میں طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے ٹیلی ہیلتھ سروسز میں توسیع ضروری، وزیر اعلیٰ بلوچستان

کوئٹہ (نمائندہ مقامی حکومت) — وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے دور دراز علاقوں تک طبی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکتی ہے، اس لیے صوبے میں ٹیلی ہیلتھ نظام کو مزید وسعت دینا ناگزیر ہے۔

وہ جمعرات کو صحت کے شعبے سے متعلق ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے، جس میں صوبے بھر میں طبی سہولیات کی بہتری، ٹیلی ہیلتھ سروسز کی توسیع اور اپر ڈیرہ بگٹی میں ماڈل ہیلتھ ڈسٹرکٹ کے قیام سے متعلق امور پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ، چیف سیکریٹری شکیل قادر خان، سیکریٹری صحت مجیب الرحمن پانیزئی اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے صوبے میں ٹیلی ہیلتھ نظام، اپر ڈیرہ بگٹی میں ماڈل ہیلتھ پلان اور اس پر عملدرآمد کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔

وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ اپر ڈیرہ بگٹی اور سوئی کے ہسپتالوں میں درکار عملے کی بھرتی میرٹ کی بنیاد پر کی جائے اور اس عمل میں کسی قسم کے سیاسی یا انتظامی دباؤ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی سطح پر معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے انتظامی امور کو جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو بروقت اور مؤثر علاج میسر آ سکے۔

اجلاس میں زرغون ہاؤسنگ اسکیم کوئٹہ میں قائم باچا خان میموریل ہسپتال سے متعلق امور پر بھی بریفنگ دی گئی۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بنیادی صحت مراکز کو فعال بنا کر عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری طبی سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں، جو حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے ٹیلی ہیلتھ نظام کو مزید مؤثر بنانے اور اس کی نگرانی کے لیے مضبوط مانیٹرنگ نظام قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ شفافیت اور خدمات کے معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔

دریں اثنا، وزیر اعلیٰ نے رکھنی-بیکار بلیک ٹاپ سڑک کی تعمیر سے متعلق ایک علیحدہ اجلاس میں بھی شرکت کی اور واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ تعمیراتی کمپنی، سپرنٹنڈنگ انجینئر اور ایگزیکٹو انجینئر منصوبے کی تکمیل تک سائٹ پر موجود رہیں تاکہ کام کی رفتار اور معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔

متعلقہ خبریں