کراچی: سندھ کابینہ نے اینٹی انکروچمنٹ فورس کے لیے باقاعدہ سروس اسٹرکچر کی منظوری دے دی ہے تاکہ ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنایا جا سکے اور بھرتیوں کو میرٹ کی بنیاد پر یقینی بنایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ فورس میں بھرتیاں سندھ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے کی جائیں گی، جبکہ ترقیوں اور انتظامی امور کو بھی باقاعدہ قواعد کے تحت لایا جائے گا۔
اجلاس میں اینٹی انکروچمنٹ فورس کے لیے بھرتی قواعد کے مسودے کی منظوری دی گئی، جس کے تحت گریڈ ایک سے گریڈ انیس تک کی آسامیوں کے لیے تقرری، اہلیت، ترقی اور سروس شرائط کو واضح کیا گیا ہے۔ حکام کو بتایا گیا کہ 2010 میں قیام کے بعد سے فورس بغیر مستقل قواعد کے کام کر رہی تھی اور جزوی طور پر پولیس قواعد پر انحصار کیا جا رہا تھا۔
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ نئے قواعد پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے کیونکہ سرکاری املاک کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط اور پیشہ ور فورس ناگزیر ہے۔
کابینہ نے دیگر اہم فیصلے بھی کیے، جن میں متوفی کوٹہ سے متعلق زیر التوا کیسز کو نمٹانے کی منظوری شامل ہے۔ فیصلہ کیا گیا کہ ستمبر 2024 سے پہلے جمع کرائی گئی درخواستوں کو قانون کے مطابق میرٹ پر نمٹایا جائے گا، جبکہ بعد ازاں سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت اس کوٹہ کو غیر آئینی قرار دیا جا چکا ہے۔
اجلاس میں روہڑی ریلوے اسٹیشن کی اپ گریڈیشن کے لیے 49 کروڑ 75 لاکھ روپے جاری کرنے کی بھی منظوری دی گئی، جو پاکستان ریلوے کے ساتھ مشترکہ منصوبے کے تحت خرچ کیے جائیں گے۔
مزید برآں، درآمدی اشیا کے لیے لیٹر آف کریڈٹ کھولنے اور پراسیسنگ کے لیے سندھ بینک کے ذریعے نیا نظام متعارف کرانے کی منظوری دی گئی، جس کا مقصد مالیاتی شفافیت اور نگرانی کو بہتر بنانا ہے۔
کابینہ نے صحت، زراعت اور ڈیجیٹل مہارتوں کے شعبوں میں بھی مختلف اقدامات کی منظوری دی، جن میں حاملہ خواتین کے لیے غذائی سپلیمنٹس کی فراہمی، طلبہ کے لیے 19,200 گوگل کیریئر سرٹیفکیٹ اسکالرشپس، اور کسانوں کے لیے اجتماعی زرعی نظام کے قیام جیسے اقدامات شامل ہیں۔
اس کے علاوہ لیاری ندی کو باقاعدہ طور پر لیاری ٹاؤن کی حدود میں شامل کرنے کی بھی منظوری دی گئی تاکہ انتظامی امور کو بہتر بنایا جا سکے۔