ایل ڈی اے لاہور کی آمدن تاریخ کی بلند ترین سطح پر، دو سال میں 73.8 ارب سے زائد وصولیاں
لاہور: لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے)کی آمدن تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ، دو سال میں 73.8 ارب سے زائد وصولیاں۔ وزیر اعلی ٰمریم نواز کی ڈیجیٹل گورننس اور اصلاحات کے ثمرات، مالی سال کے اختتام تک مجموعی وصولیاں 29 ارب تک پہنچنے کا امکان۔پی ٹی آئی کے چار سالہ دور میں 46.9 ارب روپے آمدن رہی ،غیرقانونی کمرشلائزیشن کے خلاف سخت کارروائیاں، آن لائن سروسز اور شفاف نظام سے وصولیوں میں تاریخی بہتری آئی ۔ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) نے اپنی تاریخ کی بلند ترین آمدن حاصل کرتے ہوئے مالی سال 2025-26 کے پہلے 11 ماہ کے دوران 25 ارب روپے کا ریونیو جمع کر لیا ہے، جبکہ مالی سال کے اختتام تک مجموعی وصولیاں تقریباً 29 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہ کارکردگی نہ صرف ادارے کی تاریخ کی بہترین مالی کارکردگی ہے بلکہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں غیرمعمولی اضافہ بھی ظاہر کرتی ہے۔ "جنگ” کو دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران ایل ڈی اے کی آمدن میں 232 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مالی سال 2016-17 میں ادارے کی آمدن 8.7 ارب روپے تھی جو مالی سال 2025-26 میں بڑھ کر متوقع طور پر 29 ارب روپے تک پہنچ رہی ہے۔ تاہم سب سے نمایاں اضافہ گزشتہ دو برس کے دوران دیکھنے میں آیا، جب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں ڈیجیٹلائزیشن، ریگولیٹری اصلاحات اور ادارہ جاتی تنظیمِ نو کے وسیع پروگرام کا آغاز کیا گیا۔ اعداد و شمار پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) کے ادوار کا واضح تقابلی منظرنامہ پیش کرتے ہیں۔ ڈی جی ایل ڈی اے کی قیادت میں غیرقانونی کمرشلائزیشن کے خلاف کارروائیوں کو تیز کیا گیا، جائیدادوں کی ڈیجیٹل میپنگ کا دائرہ وسیع کیا گیا، انفورسمنٹ آپریشنز کو مضبوط بنایا گیا اور سرمایہ کاروں و پراپرٹی مالکان کے لیے کاروبار دوست اقدامات متعارف کرائے گئے۔ اتھارٹی نے نیلامی کے طریقہ کار کو آسان بنایا جبکہ بعض اراضی استعمال ضوابط میں نرمی کر کے سرمایہ کاری اور سروس ڈیلیوری کو فروغ دیا گیا۔انفورسمنٹ مہم کا ایک نمایاں نتیجہ غیرقانونی کمرشل سرگرمیوں پر عائد جرمانوں کی مد میں 2 ارب روپے سے زائد کی وصولی ہے۔ اس دوران ہزاروں نوٹسز جاری کیے گئے جبکہ لاہور بھر میں قوانین کی پاسداری کی شرح میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔ ایل ڈی اے کو مختلف ذرائع سے آمدن حاصل ہوئی جن میں کمرشلائزیشن فیس، غیرقانونی کمرشلائزیشن چارجز، پلاٹ ٹرانسفر فیس، ایل ڈی اے سٹی ٹرانسفرز، استثنیٰ فیس، عمارتوں کی مدتِ تعمیر میں توسیع کے چارجز، ٹاؤن پلاننگ فیس و جرمانے، لیز آمدن، اربن اموویبل پراپرٹی ٹیکس میں حصہ، پلاٹوں کی فروخت اور ترقیاتی چارجز شامل ہیں۔ حکام کے مطابق گزشتہ دس برس میں یہ پہلا موقع ہے کہ ادارے نے بیک وقت متعدد ریونیو ذرائع سے ریکارڈ آمدن حاصل کی ہے۔ ادارہ جاتی بہتری کے اثرات خدمات کی فراہمی میں بھی نمایاں طور پر نظر آئے ہیں۔ ایل ڈی اے کے سٹیزن فیسیلیٹیشن سینٹر نے 2025 کے دوران 63 ہزار سے زائد درخواستوں پر کارروائی کی، ہزاروں این او سیز جاری کیے، عمارتوں کے نقشے منظور کیے اور ٹرانسفر و کمرشلائزیشن سے متعلق بڑی تعداد میں کیسز نمٹائے، جس سے شہریوں کی بڑھتی ہوئی شمولیت اور ڈیجیٹل نظام پر اعتماد کی عکاسی ہوتی ہے۔شہری ترقی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مہنگائی، جائیدادوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مارکیٹ سرگرمیوں نے بھی آمدن میں اضافے میں کردار ادا کیا، تاہم ریونیو میں غیرمعمولی اضافے کی اصل وجہ انتظامی اصلاحات، بہتر گورننس اور مؤثر نگرانی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق لاہور کی شہری توسیع اور انفراسٹرکچر کی ترقی میں ایل ڈی اے کا کردار آئندہ برسوں میں مزید اہم ہو جائے گا۔ مالی سال 2025-26 کے اختتام پر ریکارڈ کارکردگی کی جانب بڑھتے ہوئے ایل ڈی اے کی کامیابی کو حکومتی حلقوں میں اس بات کی نمایاں مثال قرار دیا جا رہا ہے کہ ڈیجیٹل گورننس، سخت نفاذِ قانون اور ادارہ جاتی اصلاحات کس طرح قابلِ پیمائش مالی نتائج پیدا کر سکتی ہیں۔ پنجاب حکومت کے لیے یہ اعداد و شمار اس کے طرزِ حکمرانی کے عملی نتائج کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ ایل ڈی اے کے لیے یہ اس کی تاریخ میں ریونیو کے حوالے سے سب سے کامیاب باب ثابت ہو رہا ہے