حیدرآباد: حیدرآباد ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایچ ڈی اے) کی جانب سے قاسم آباد میں متعدد پلاٹس کی نیلامی کے منصوبے پر تنازع کھڑا ہوگیا ہے، جس پر ڈپٹی کمشنر حیدرآباد نے ادارے سے وضاحت طلب کر لی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایچ ڈی اے نے قاسم آباد فیز ون میں 80 مربع گز کے 22 رہائشی پلاٹس کے ساتھ ساتھ 1,833 مربع گز کے ایک سہولتی پلاٹ، جو واٹر ورکس کے لیے مختص ہے، کی نیلامی کا منصوبہ بنایا۔ اس حوالے سے ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کنٹرول نے اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنر کو پلاٹس کی قیمتوں کے تعین کے لیے خط ارسال کیا۔
تاہم اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنر نے اپنے جواب میں نشاندہی کی کہ سہولتی پلاٹ کا اندراج خط میں ہاتھ سے درج کیا گیا ہے، جو باضابطہ نہیں لگتا، لہٰذا اس بارے میں نیا خط ارسال کیا جائے۔
ڈپٹی کمشنر زین العابدین میمن نے بتایا کہ اس معاملے میں وضاحت طلب کی گئی ہے اور اگر ایچ ڈی اے باضابطہ طور پر اس پلاٹ کی نیلامی پر قائم رہا تو اسے آگاہ کیا جائے گا کہ سہولتی پلاٹس کی حیثیت تبدیل نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی انہیں نیلام کیا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ مذکورہ پلاٹ قاسم آباد کی مرکزی شاہراہ پر واقع ہے اور ماضی میں یونین کونسل دفتر اور ملازمین کی رہائش کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔ عدالتی فیصلوں کے مطابق سہولتی پلاٹس کی نوعیت تبدیل کرنا اصولی طور پر ممکن نہیں۔
ذرائع کے مطابق ایچ ڈی اے کو ماضی میں بھی بے ضابطگیوں، مالی بدانتظامی اور متنازع الاٹمنٹس کے باعث تنقید کا سامنا رہا ہے، جبکہ مختلف انکوائریاں بھی عمل میں لائی جا چکی ہیں۔