کراچی کی سڑکوں پر لاقانونیت کا راج، بغیر نمبر پلیٹ موٹر سائیکلیں شہریوں کیلئے خطرہ بن گئیں
کراچی:شہر قائد کی سڑکوں پر ٹریفک قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں معمول بن چکی ہیں جبکہ ہزاروں موٹر سائیکلیں بغیر نمبر پلیٹ کے شہر بھر میں آزادانہ گھوم رہی ہیں۔ حیران کن امر یہ ہے کہ ٹریفک پولیس اور متعلقہ ادارے ان غیر قانونی گاڑیوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتے ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ بغیر نمبر پلیٹ موٹر سائیکلیں نہ صرف ٹریفک قوانین کی سنگین خلاف ورزی کر رہی ہیں بلکہ اس قسم کی گاڑیاں جرائم کی وارداتوں میں بھی استعمال ہونے کا خدشہ بڑھا رہی ہیں۔ ڈکیتی، اسٹریٹ کرائم اور دیگر وارداتوں کے بعد ملزمان اکثر بغیر نمبر پلیٹ موٹر سائیکلوں پر فرار ہو جاتے ہیں، جس کے باعث انہیں ٹریس کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ جدید کیمروں اور سیف سٹی نگرانی کے نظام بھی ایسی موٹر سائیکلوں کی شناخت میں ناکام رہتے ہیں۔شہر کی مختلف شاہراہوں پر بغیر نمبر پلیٹ موٹر سائیکل سواروں کو ون ویلنگ، سگنل توڑنے، تیز رفتاری اور خطرناک ڈرائیونگ کرتے ہوئے روزانہ دیکھا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں حادثات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک پولیس کی جانب سے وقتاً فوقتاً بغیر نمبر پلیٹ گاڑیوں کے خلاف مہمات اور بلند بانگ دعوے تو سامنے آتے ہیں، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر شہر میں جگہ جگہ پولیس چیک پوسٹس اور ٹریفک اہلکار موجود ہیں تو پھر ہزاروں غیر قانونی موٹر سائیکلیں سڑکوں پر کیسے دندناتی پھر رہی ہیں؟ کیا یہ اداروں کی نااہلی ہے یا پھر قانون نافذ کرنے والے ادارے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینے کیلئے تیار نہیں؟شہریوں نے حکومت سندھ، کراچی ٹریفک پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ بغیر نمبر پلیٹ موٹر سائیکلوں کے خلاف فوری اور بلاامتیاز کریک ڈاؤن کیا جائے، تاکہ شہر میں بڑھتے ہوئے جرائم اور ٹریفک حادثات پر قابو پایا جا سکے۔