چشتیاں بیوٹی فکیشن منصوبہ تنازع کا شکار، 31 دکاندار بے روزگار، تاجروں کا معاوضے کا مطالبہ

چشتیاں: چشتیاں شہرکے بازاروں میں بیوٹی فکیشن کے نا م پر 31 دکا نداروں کے 60سال سے قائم پختہ کیبن مسمار کرکے ا نہیں روزگار سے محروم کردیاجبکہ ماسٹر پلان کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے نہ صرف سڑکوں کا وجود ختم کر ے اور بازاروں کے فرش کا لیول دکا نوں کے فرش سے دو فٹ او نچا رکھ دینے سے لوگوں کی اربوں روپے مالیت کی املاک کو تباہی سے دوچار کر نے کے علاوہ بجلی کی تاروں کے پول عمارات کے ساتھ لگادینے سے جانی نقصان کے خطرات پیدا کردیے ہیں۔

حکومت پنجاب کے بیوٹی فکیشن منصوبہ کے تحت چشتیاں کے تین بازاروں میں ٹف ٹائلز لگا نے کا سلسلہ گذشتہ چھ ماہ سے ا نتہائی سست رفتار سے جاری ہے اور ضلعی و تحصیل افسرا ن و متعلقہ ٹھیکیدار کی غفلت،لاپرواہی کی بدولت راستوں کی بند ش کی وجہ سے تاجروں کو کروڑوں روپئے کا کاروباری نقصان اٹھا نے کے علاوہ کچے راستوں سے اڑ نے والی مٹی سے تاجرا ن و گاہک جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں سا نس کی تکالیف کا شکار ہیں۔

افسرا ن کی غفلت لاپرواہی کی بنا پر بازاروں میں نقشہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بڑے سائز کے فوارے بنا ئے جا رہے ہیں جس سے ٹریفک کی روا نگی ہمیشہ کیلئے متاثر ہوگی۔ چشتیاں کے بیوٹی فکیشن منصوبہ میں ناقص میٹریل اور غیر معیاری کام کی نشا ن دہی کرتے ہوئے کمشنر بہاولپور ڈویژن عرفان علی کاٹھیا نے ٹھیکیدار و افسران کو ہدایت کی کہ منصوبہ مقررہ معیار کے مطابق تعمیر کیا جائے اور بازاروں میں پا نی کے چھڑکاو کو ممکن بنا یا جائے۔

چشتیاں کے تاجروں و شہریوں نے وزیر اعلی پنجاب محترمہ مریم نواز شریف سے اپنے مطالبہ میں کہا ہے کہ ریل بازار اور چمن بازار کے 31 کیبن مالکان کو مالی معاوضہ دیا جائے اور ا نہیں چشتیاں کے شاپنگ پلازوں میں سب لیٹ کی گئی دکا نوں میں دوبارہ آباد کر نے کے اقدامات کئے جائیں۔

متعلقہ خبریں