فنڈز کی کمی، راولپنڈی کے سرکاری اسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی بند ہونے کا خدشہ
راولپنڈی: راولپنڈی کے تین بڑے سرکاری تدریسی اسپتالوں میں آئندہ ماہ سے مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، کیونکہ محکمہ صحت پنجاب مطلوبہ فنڈز جاری کرنے میں ناکام رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ہولی فیملی اسپتال، بے نظیر بھٹو اسپتال اور راولپنڈی ٹیچنگ اسپتال نے مالی سال 2025-26 کے لیے مفت ادویات کی فراہمی کی مد میں مجموعی طور پر 4.5 ارب روپے کا بجٹ طلب کیا تھا، تاہم پنجاب حکومت نے صرف 2.5 ارب روپےجاری کیے جبکہ باقی 2 ارب روپے مئی 2026 میں جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، جو تاحال پوری نہیں ہو سکی۔
اسپتال حکام کے مطابق موجودہ ادویات کا ذخیرہ جون کے اختتام تک دستیاب ہے، لیکن ادویات فراہم کرنے والی کمپنیوں نے واجبات کی عدم ادائیگی کے باعث مزید سپلائی سے انکار کر دیا ہے۔ اگر فوری فنڈز جاری نہ کیے گئے تو جولائی سے مفت ادویات کی فراہمی بند ہو سکتی ہے۔
ہولی فیملی اسپتال نے ادویات کی خریداری کے لیے 1.5 ارب روپے مانگے تھے مگر صرف 40 کروڑ روپے ملے، جبکہ بے نظیر بھٹو اسپتال کو بھی طلب کردہ 1.5 ارب روپے کے مقابلے میں 38 کروڑ روپے فراہم کیے گئے۔ اسی طرح راولپنڈی ٹیچنگ اسپتال نے 1 ارب روپے کی درخواست دی تھی لیکن اسے صرف 25 کروڑ روپے جاری کیے گئے۔
راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت نے آؤٹ ڈور، ایمرجنسی اور داخل مریضوں کو مفت ادویات فراہم کرنے کی ہدایت دی تھی، تاہم فنڈز کی شدید کمی اس منصوبے کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر چکی ہے اور معاملہ صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کے نوٹس میں بھی لایا گیا ہے۔
ہولی فیملی اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر اعجاز بٹ نے بتایا کہ اسپتال کو تقریباً 90 کروڑ روپے کے اضافی فنڈز درکار ہیں، جبکہ بے نظیر بھٹو اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر شرجیل کے مطابق اگر بقایا جات فوری ادا نہ کیے گئے تو آئندہ مالی سال میں مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی شدید متاثر ہوگی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے بروقت فنڈز جاری نہ کیے تو اس کا براہ راست اثر ہزاروں غریب مریضوں پر پڑے گا، جو سرکاری اسپتالوں سے مفت ادویات پر انحصار کرتے ہیں