عالمی ادارہ صحت کی خیبرپختونخوا میں HPV ویکسین مہم سے قبل بھرپور آگاہی مہم اور عملے کی تربیت کی سفارش

پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک): عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے خیبرپختونخوا، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں ہیومن پیپیلوما وائرس (HPV)ویکسین مہم کے آغاز سے قبل عوامی آگاہی، طبی عملے کی تربیت اور تعلیمی اداروں کی مؤثر شمولیت پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بروقت تیاری نہ ہونے کی صورت میں مہم کو پولیو ویکسین کی طرح غلط فہمیوں اور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی جانب سے جاری 101 صفحات پر مشتمل پوسٹ کیمپین کوریج سروے (PCCS) رپورٹ میں گزشتہ سال پنجاب، سندھ، آزاد کشمیر اور اسلام آباد میں 9 سے 14 سال کی بچیوں کے لیے چلائی گئی HPV ویکسین مہم کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ میں آئندہ مرحلے میں خیبرپختونخوا، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں مہم کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تفصیلی سفارشات پیش کی گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 7 کروڑ 38 لاکھ سے زائد خواتین سروائیکل کینسر کے خطرے سے دوچار ہیں، جبکہ خواتین میں یہ سرطان ملک کا تیسرا بڑا کینسر بن چکا ہے۔ تقریباً 99 فیصد سروائیکل کینسر کے کیسز مسلسل HPV انفیکشن سے منسلک ہوتے ہیں، جن سے بروقت ویکسین کے ذریعے بڑی حد تک بچاؤ ممکن ہے۔

سروے میں انکشاف ہوا کہ ملک بھر میں HPV ویکسین کی مجموعی کوریج صرف 53.4 فیصد رہی، جو سرکاری اعداد و شمار سے نمایاں طور پر کم ہے۔ صوبہ سندھ میں سب سے زیادہ 68.6 فیصد کوریج ریکارڈ کی گئی، جبکہ آزاد کشمیر میں یہ شرح صرف 39.2 فیصد رہی۔ پنجاب میں 47.6 فیصد اور اسلام آباد میں 44.5 فیصد کوریج حاصل ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ 51.6 فیصد والدین نے HPV ویکسین کو بچیوں کی صحت کے لیے ضروری قرار دیا، تاہم 32.2 فیصد نے اسے غیر ضروری سمجھا جبکہ 16.2 فیصد والدین اس حوالے سے غیر یقینی کا شکار رہے، جو آگاہی کے فقدان کی نشاندہی کرتا ہے۔

ماہرین امراضِ نسواں کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں اگرچہ تکنیکی ورکنگ گروپ کے اجلاس باقاعدگی سے ہو رہے ہیں، تاہم اساتذہ، صحافیوں، مذہبی رہنماؤں اور والدین کے لیے کوئی جامع آگاہی مہم شروع نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبہ پہلے ہی پولیو ویکسین سے متعلق غلط معلومات کے باعث مشکلات کا سامنا کر چکا ہے، اس لیے HPV مہم کے آغاز سے کم از کم چھ ماہ قبل عوامی آگاہی مہم شروع کرنا ناگزیر ہے۔

رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ آئندہ مہم کے لیے طبی عملے کی تربیت، اسکولوں، محکمہ تعلیم، میڈیا اور طبی تنظیموں کو بھرپور انداز میں شامل کیا جائے تاکہ والدین کے خدشات دور کیے جا سکیں اور ویکسینیشن کی شرح میں نمایاں اضافہ ممکن ہو۔

ای پی آئی (توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مہتاب خان نے بتایا کہ ابتدائی سرگرمیوں کا آغاز ہو چکا ہے، تاہم محکمہ تعلیم کے بعض حکام نے کہا ہے کہ انہیں اس حوالے سے کسی باقاعدہ مہم سے آگاہ نہیں کیا گیا۔

صحت عامہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مؤثر آگاہی اور بین الادارہ جاتی تعاون کو یقینی بنایا جائے تو HPV ویکسین مہم پاکستان میں سروائیکل کینسر کی روک تھام میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں