جنگلات کی بے دریغ کٹائی روکنے کے لیے سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ
کراچی: ماہرین ماحولیات، پالیسی سازوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے پاکستان میں تیزی سے کم ہوتے جنگلات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ جنگلات کی کٹائی کو ایک سنگین ماحولیاتی جرم قرار دے کر اس کے خلاف فوری قانونی، انتظامی اور عملی اقدامات کیے جائیں۔
یہ مطالبہ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کی قائمہ کمیٹی برائے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار "Pakistan’s Vanishing Forests: From 5% to 3% – What’s Next?” میں کیا گیا۔
مقررین نے کہا کہ پاکستان میں جنگلات کا رقبہ پانچ فیصد سے کم ہو کر تقریباً تین فیصد رہ گیا ہے، جبکہ ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے کم از کم 25 فیصد جنگلات ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق کراچی میں سبزہ صرف دو فیصد رہ گیا ہے اور ترقیاتی منصوبوں کے باعث ہزاروں درخت کاٹے جا چکے ہیں۔
شرکاء نے کہا کہ جنگلات کی مسلسل کٹائی کے باعث پاکستان کو شہری سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOFs) اور دیگر موسمیاتی آفات کا سامنا ہے، جبکہ ملک میں ہر سال تقریباً 11 ہزار ہیکٹر جنگلات ختم ہو رہے ہیں۔
ماہرین نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں، محکمہ جنگلات اور ماحولیاتی تحفظ کے اداروں پر زور دیا کہ غیر قانونی درختوں کی کٹائی کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور ذمہ دار اداروں کا بھی احتساب کیا جائے۔
سیمینار میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ جدید سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے جنگلات کی نگرانی کی جائے، مقامی اقسام کے درخت لگائے جائیں، شہری علاقوں میں شجرکاری کو فروغ دیا جائے اور نوجوانوں میں ماحولیات کے تحفظ سے متعلق شعور بیدار کیا جائے۔
مقررین نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ماحولیاتی تنظیمیں اور سول سوسائٹی جنگلات کی تباہی کے خلاف عدالتوں اور ماحولیاتی ٹربیونلز سے رجوع کریں تاکہ قدرتی وسائل اور حیاتیاتی تنوع کا مؤثر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔