کمرات اور منکیال میں سیلاب سے قبل وارننگ سسٹم کے آلات چوری، ابتدائی انتباہی نظام متاثر

پشاور: خیبرپختونخوا کے کمرات (اپر دیر) اور منکیال (اپر سوات) کی برفانی وادیوں میں ابتدائی سیلابی وارننگ سسٹم (Early Warning System) کے متعدد آلات چوری اور تباہ کر دیے گئے ہیں، جس سے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOF) اور ممکنہ سیلاب سے متعلق بروقت اطلاعات کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔

ذرائع کے مطابق کمرات اور منکیال میں نصب تقریباً 14 ابتدائی وارننگ اسٹیشنز نے پاکستان محکمہ موسمیات (PMD) کو سگنلز بھیجنا بند کر دیے ہیں۔ چوری یا نقصان پہنچائے گئے آلات میں سولر پینلز، بیٹریاں، برف، ہوا اور پانی کی پیمائش کرنے والے سینسرز، سولر وائرز اور سیٹلائٹ کمیونیکیشن کے دیگر آلات شامل ہیں۔

محکمہ موسمیات کے ایک اہلکار نے بتایا کہ زیادہ تر نقصان کمرات وادی میں ہوا ہے، جبکہ منکیال میں بھی چند مقامات پر آلات کو نقصان پہنچایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں کئی آلات کی مرمت اور تبدیلی کی گئی تھی، تاہم اس نوعیت کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

صوبے کے برفانی علاقوں، جن میں چترال، اپر دیر، سوات اور کوہستان شامل ہیں، میں مجموعی طور پر 85 ابتدائی وارننگ سسٹمز نصب کیے گئے تھے۔ یہ تنصیبات اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کے GLOF-II منصوبے کے تحت وزارت موسمیاتی تبدیلی اور محکمہ موسمیات کے اشتراک سے گزشتہ سال مکمل کی گئی تھیں۔

وزارت دفاع نے بھی بار بار ہونے والی توڑ پھوڑ اور چوری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا کو مراسلہ ارسال کیا ہے، جس میں ان واقعات کی روک تھام اور متعلقہ تنصیبات کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔

حکام کے مطابق کئی مقامات پر بیٹریاں، سولر پینلز، لاگر باکسز، سیٹلائٹ کمیونیکیشن آلات اور دیگر تنصیبات کو جان بوجھ کر نقصان پہنچایا گیا، جبکہ ایک واٹر لیول گیج اسٹیشن مکمل طور پر تباہ ہونے کے باعث ناقابلِ مرمت قرار دیا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مقامی آبادی کی شمولیت، آگاہی اور تنصیبات کی اجتماعی حفاظت کے بغیر ابتدائی وارننگ سسٹم کو مؤثر اور پائیدار بنانا ممکن نہیں ہوگا۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مقامی کمیونٹیز کے درمیان بہتر رابطے اور سکیورٹی اقدامات کو ناگزیر قرار دیا ہے

متعلقہ خبریں