سندھ اور این ڈی ایم اے کا سیلاب اور ہیٹ ویوز سے نمٹنے کے لیے رابطہ مزید مضبوط، جدید پیشگی انتباہی نظام متعارف
کراچی: سندھ حکومت اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) نے مون سون سیزن کے دوران سیلاب، شہری علاقوں میں بارش کے پانی کے جمع ہونے اور ہیٹ ویوز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے باہمی رابطہ مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ این ڈی ایم اے نے جدید Predictive Disaster Intelligence پر مبنی پیشگی انتباہی نظام متعارف کرانے کا اعلان بھی کیا۔
وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں منعقدہ اجلاس کی مشترکہ صدارت صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو اور وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے کی۔ اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب، این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے باعث گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOF)، کلاؤڈ برسٹ، فلیش فلڈ، دریائی سیلاب، شہری سیلاب، سمندری طوفان اور ہیٹ ویوز جیسے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔ 15 جولائی سے 30 اگست کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت، شدید حبس اور فعال مون سون کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
این ڈی ایم اے نے اجلاس میں نیشنل ریزیلینس اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کوآرڈینیشن فریم ورک پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ملک روایتی ابتدائی وارننگ سسٹم سے آگے بڑھ کر نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (NEOC) کے ذریعے پیش گوئی پر مبنی ڈیزاسٹر انٹیلی جنس نظام کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔
چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ اس نظام سے ممکنہ خطرات کی بروقت نشاندہی، فوری وارننگ جاری کرنے اور وفاقی، صوبائی و ضلعی سطح پر بہتر فیصلہ سازی میں مدد ملے گی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ حفاظتی پشتوں (Flood Protection Bunds) کا مسلح افواج کے تعاون سے سروے جاری ہے، جبکہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی، پاکستان ریلوے اور دیگر اہم اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ وفاقی اور صوبائی ایمرجنسی آپریشن سینٹرز کے درمیان 24 گھنٹے رابطے کا نظام بھی فعال کر دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا نہیں بلکہ موجودہ دور کا ایک سنگین چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون ناگزیر ہے