پنجاب میں یونین کونسل کی سطح پر دستک مراکز قائم کرنے کا فیصلہ

لاہور: پنجاب حکومت نے شہریوں کو ان کے گھروں کے قریب مختلف سرکاری خدمات کی فراہمی کے لیے صوبے بھر میں یونین کونسل کی سطح پر ’دستک مراکز‘ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سلسلے میں لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے سیکریٹری زید بن مقصود کی زیر صدارت اجلاس ہوا، جس میں پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے چیئرمین فیصل یوسف اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں پنجاب بھر میں دستک مراکز کے قیام کی تجویز، سروس ڈیلیوری کا طریقہ کار، مناسب عمارتوں کی دستیابی، آئی ٹی سہولیات، عوامی رسائی اور دیگر بنیادی ضروریات کا جائزہ لیا گیا۔

پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے چیئرمین فیصل یوسف نے اجلاس کو مجوزہ دستک مراکز کے سروس ڈیلیوری ماڈل کے بارے میں بریفنگ دی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ان مراکز پر 170 سے زائد سرکاری خدمات ایک ہی چھت کے نیچے فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد سرکاری خدمات کو شہریوں کے لیے زیادہ آسان اور قابل رسائی بنانا اور انہیں یونین کونسل کی سطح پر ان کی کمیونٹی کے قریب فراہم کرنا ہے۔

حکام نے اجلاس کو بتایا کہ دستک مراکز کے قیام کے لیے یونین کونسلز کا فیلڈ اسسمنٹ مکمل کرلیا گیا ہے، جس میں موزوں عمارتوں، آئی ٹی ضروریات، عوامی رسائی اور مؤثر سروس ڈیلیوری کے لیے درکار دیگر سہولیات کا جائزہ شامل ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ منصوبے پر مجموعی طور پر 4 ارب روپے سے زائد لاگت آنے کا تخمینہ ہے، جبکہ پنجاب بھر کی 4,000 سے زائد یونین کونسلز کو اس اقدام میں شامل کیا جائے گا۔

زید بن مقصود نے کہا کہ ہر دستک مرکز پر فراہم کی جانے والی خدمات کا تعین مقامی آبادی کی ضروریات اور ترجیحات کے مطابق کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مراکز کے لیے عمارتوں کے انتخاب اور آئی ٹی انفراسٹرکچر کی تیاری میں عوامی سہولت اور رسائی کو بنیادی اہمیت دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام عوامی خدمات کی فراہمی کے معیار کو نمایاں طور پر بہتر بنانے کے ساتھ شہریوں کو مختلف سرکاری خدمات کے حصول کے لیے بار بار سرکاری دفاتر جانے کی ضرورت بھی کم کرے گا۔

سیکریٹری لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ نے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے سرکاری خدمات کی فراہمی کو زیادہ مؤثر، شفاف اور شہری دوست بنایا جاسکے گا۔

متعلقہ خبریں