بہاولنگر:اینٹی کرپشن سے نکالے جانے والے اہلکار کی پولیس سے بھی مبینہ غیر حاضری، ضلعی پولیس خاموش، سیاسی دباؤ کے تحت معاملہ دبانے کی کوشش؟
بہاولنگر(نمائندہ خصوصی) محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب سے بدعنوانی اور قواعد کی خلاف ورزی کے الزامات پر نکالے گئے پولیس اہلکار محمد اسلم کے حوالے سے ایک نیا تنازع سامنے آ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اینٹی کرپشن سے واپس ضلع پولیس بہاولنگر بھیجے جانے کے باوجود مذکورہ اہلکار نے اپنے اصل محکمے میں رپورٹ نہیں کیا اور مبینہ طور پر مسلسل غیر حاضر ہے، تاہم ضلعی پولیس اس صورتحال پر تاحال واضح مؤقف دینے سے گریزاں ہے، جس سے مبینہ سرپرستی اور سیاسی دباؤ کے تحت معاملہ دبانے کے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ضلع پولیس بہاول نگر کے کانسٹیبل محمد اسلم کو 11 ستمبر 2015 کو اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب سے باضابطہ طور پر برطرف کیا گیا تھا۔ اس وقت جاری ہونے والے سرکاری حکم نامے میں واضح کیا گیا تھا کہ مذکورہ اہلکار فوری طور پر اپنے پیرنٹ ڈیپارٹمنٹ یعنی ضلع پولیس بہاولنگر میں رپورٹ کرے گا جبکہ آئندہ اینٹی کرپشن میں کسی بھی تعیناتی کے لیے نااہل تصور ہوگا۔
اس کے باوجود ذرائع کا دعویٰ ہے کہ محمد اسلم کو 2021 میں دوبارہ اینٹی کرپشن میں تعینات کر دیا گیا، جس پر پہلے ہی محکمانہ شفافیت اور اثر و رسوخ کے استعمال کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے تھے۔ بعد ازاں ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب کے احکامات کے تحت اسے دوبارہ اینٹی کرپشن سے واپس ضلع پولیس بہاول نگر رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی۔
ذرائع کے مطابق سرکل انچارج اینٹی کرپشن بہاول نگر محمد اکرم زکی نے 9 مارچ 2026 کو باضابطہ طور پر محمد اسلم کو ضلع پولیس بہاولنگر واپس روانہ کر دیا تھا، تاہم حیران کن طور پر مذکورہ اہلکار نے اب تک ضلع پولیس میں رپورٹ نہیں کیا اور مبینہ طور پر مسلسل غیر حاضر ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صورتحال مزید مشکوک اس وقت ہوئی جب ضلعی پولیس بہاول نگر نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کر لی اور یہ واضح نہیں کیا جا رہا کہ محمد اسلم اس وقت کہاں تعینات ہے، اس کی حاضری کس ریکارڈ میں ظاہر ہو رہی ہے اور اس کے خلاف غیر حاضری پر کیا کارروائی کی گئی ہے۔
اندرونی ذرائع کے مطابق:
کانسٹیبل محمد اسلم مبینہ طور پر سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے اپنے خلاف محکمانہ کارروائی رکوانے اور دوبارہ کسی حساس عہدے پر تعیناتی کی کوششوں میں مصروف ہے، جبکہ ضلعی پولیس کی خاموشی بھی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔
ذرائع نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ محمد اسلم کا نام بہاول نگر کے ایک متنازع “ایجوکیشن کرپشن کیس” میں بھی سامنے آ چکا ہے، جہاں اس پر الزام ہے کہ اس نے بعض سرکاری افسران اور ملازمین کو کیسوں میں نامزد کروا کر مبینہ طور پر مالی فوائد حاصل کیے۔ یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ وہ خود کو اینٹی کرپشن کا ڈپٹی ڈائریکٹر ظاہر کر کے مختلف افسران کو فون کرتا تھا، حالانکہ وہ محض ریڈر کے طور پر کام کر رہا تھا۔
ذرائع کے مطابق اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے محمد اسلم کے خلاف “بین لیٹر” بھی جاری کیا جا چکا ہے، تاہم اس کے باوجود اس کے خلاف مؤثر محکمانہ کارروائی نہ ہونا اور ضلعی پولیس کی جانب سے وضاحت نہ دینا پورے معاملے کو مزید مشکوک بنا رہا ہے۔
عوامی حلقوں نے چیف سیکرٹری پنجاب، آئی جی پنجاب اور ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف انکوائری کر کے یہ واضح کیا جائے کہ ایک بلیک لسٹ اور مبینہ غیر حاضر اہلکار کو آخر کس کی سرپرستی حاصل ہے اور اس کے خلاف قواعد کے مطابق کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی۔