غوری ٹاؤن ہاؤسنگ اسکینڈل: نیب نے متاثرین کو رقوم کی واپسی کا عمل تیز کر دیا، مزید 24 کروڑ روپے تقسیم

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک): قومی احتساب بیورو (نیب) اسلام آباد/راولپنڈی نے غوری ٹاؤن ہاؤسنگ اسکینڈل کے متاثرین کو رقوم کی واپسی کا عمل مزید تیز کرتے ہوئے عیدالاضحیٰ سے قبل تقریباً 24 کروڑ روپے کی نئی قسط کی تقسیم شروع کر دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی متاثرین کو واپس کی جانے والی مجموعی رقم 46 کروڑ 50 لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے۔

اس سلسلے میں نیب اسلام آباد/راولپنڈی میں ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جہاں ڈی جی نیب اسلام آباد/راولپنڈی وقار احمد چوہان نے متاثرین میں چیک تقسیم کیے۔

اس موقع پر ڈی جی نیب نے عوام کو مشورہ دیا کہ کسی بھی ہاؤسنگ یا سرمایہ کاری منصوبے میں رقم لگانے سے قبل اس کی قانونی حیثیت، متعلقہ اداروں سے منظوری اور ریگولیٹری تقاضوں کی مکمل تصدیق ضرور کریں تاکہ دھوکہ دہی اور فراڈ سے بچا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی لوٹی گئی رقم کی ریکوری اور متاثرین کو بروقت ریلیف فراہم کرنا نیب کی اولین ترجیح ہے۔

نیب کے مطابق غوری ٹاؤن انتظامیہ نے 2012 میں فیز 7 اور فیز 8 کے منصوبے متعارف کرائے تھے اور شہریوں کو رہائشی پلاٹ دینے کا وعدہ کیا تھا، تاہم بعد میں انکشاف ہوا کہ ان منصوبوں کے لیے ضروری قانونی منظوری حاصل نہیں کی گئی تھی، حالانکہ عوام سے اربوں روپے وصول کیے جا چکے تھے۔

طویل عرصہ گزرنے کے باوجود نہ تو قانونی تقاضے مکمل کیے گئے اور نہ ہی خریداروں کو پلاٹ دیے گئے، جس کے بعد متاثرین نے نیب سے رجوع کیا اور نومبر 2023 میں باضابطہ تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

تحقیقات کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں اور غیر قانونی فائلوں کے اجرا کے شواہد سامنے آئے، جس کے بعد تقریباً 1,550 متاثرین نے اپنے دعوے جمع کرائے۔ نیب کے مطابق اس اسکینڈل کا مجموعی مالی حجم 1.4 ارب روپے سے زائد بتایا جاتا ہے۔

ذرائع کے مطابق نیب اس سے قبل بھی متاثرین میں 22 کروڑ 50 لاکھ روپے تقسیم کر چکا ہے، جبکہ موجودہ مرحلے میں مزید 24 کروڑ روپے کی ادائیگی شروع کی گئی ہے۔

نیب کا کہنا ہے کہ رقوم کی ریکوری، دعوؤں کی تصدیق اور قانونی کارروائیاں بدستور جاری ہیں، جبکہ آئندہ مراحل میں مزید متاثرین کو بھی ادائیگیاں کی جائیں گی۔

مبصرین کے مطابق متاثرین کو رقوم کی واپسی کے عمل میں حالیہ تیزی سے نیب پر عوامی اعتماد میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور متاثرہ شہری اس پیش رفت کو مثبت قرار دے رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں