گرین انکلیو-I منصوبے میں 16 سالہ تاخیر: وفاقی محتسب نے ایف جی ای ایچ اے کو دوبارہ طلب کر لیا
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک): وفاقی محتسب نے گرین انکلیو-I ہاؤسنگ منصوبے میں مسلسل تاخیر اور سابقہ احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے پر ایک بار پھر فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی (FGEHA) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 10 جون 2026 تک تازہ پیش رفت رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کر دی ہے۔
یہ معاملہ گرین انکلیو-I کے الاٹیوں، خصوصاً چوہدری امجد علی اور دیگر متاثرین کی شکایات پر زیر سماعت ہے، جن کا مؤقف ہے کہ 2009 میں شروع ہونے والا منصوبہ 16 سال گزرنے کے باوجود مکمل نہیں ہو سکا، جبکہ اضافی زمینی چارجز ادا کرنے کے باوجود انہیں پلاٹوں کا قبضہ بھی فراہم نہیں کیا گیا۔
وفاقی محتسب نے گزشتہ سال 17 دسمبر 2025 کو ایف جی ای ایچ اے کو منصوبے کی ترقیاتی سرگرمیاں تیز کرنے اور الاٹیوں کے تحفظات دور کرنے کی ہدایت کی تھی، تاہم متاثرین کے مطابق ان احکامات کے باوجود عملی طور پر کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی۔
بعد ازاں 13 اپریل 2026 کو بھی ایک یاددہانی جاری کی گئی، لیکن ترقیاتی کام دوبارہ شروع نہ ہو سکے۔ 5 مئی 2026 کو ہونے والی عملدرآمد سماعت کے دوران ایف جی ای ایچ اے حکام نے منصوبے میں تاخیر کی مختلف وجوہات پیش کیں، تاہم وفاقی محتسب کے سیکریٹریٹ نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ادارہ مطلوبہ پیش رفت رپورٹ بھی مقررہ وقت پر جمع کرانے میں ناکام رہا۔
20 مئی 2026 کو جاری کیے گئے تازہ حکم میں وفاقی محتسب نے ایف جی ای ایچ اے کے ڈائریکٹر جنرل کو ہدایت کی ہے کہ وہ ذاتی طور پر معاملے کا جائزہ لیں، متاثرین کی شکایات کا فوری ازالہ کریں اور دسمبر 2025 کے فیصلے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔
منصوبے کے ایک الاٹی اسلم چوہدری نے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی اس منصوبے میں لگائی، لیکن آج تک پلاٹ کا قبضہ نہیں مل سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ الاٹی برسوں سے صرف یقین دہانیاں سن رہے ہیں، جبکہ زمینی حقائق میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی۔
ایک اور متاثرہ الاٹی فضلِ مولا نے کہا کہ متعدد ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اب بھی کرائے کے گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں، جبکہ ان کے خریدے گئے پلاٹس تاحال غیر ترقی یافتہ ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی محتسب کے احکامات پر فوری عملدرآمد کرتے ہوئے منصوبہ مکمل کیا جائے۔
متاثرین کی نمائندگی کرنے والے چوہدری امجد علی کے مطابق منصوبے میں تاخیر سے 3,282 خاندان متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ کئی الاٹی اپنے خوابوں کے گھر بنائے بغیر ہی انتقال کر چکے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عید کے بعد بھی صورتحال میں بہتری نہ آئی تو متاثرین ایف جی ای ایچ اے کے دفتر کے سامنے پرامن احتجاج کریں گے۔
واضح رہے کہ گرین انکلیو-I منصوبے میں مجموعی طور پر 3,282 رہائشی پلاٹس شامل ہیں، جن میں مختلف سائز کے پلاٹس الاٹیوں کو مختص کیے گئے تھے، تاہم ترقیاتی کام مکمل نہ ہونے کے باعث بیشتر الاٹی آج بھی قبضے کے منتظر ہیں۔