لاہور میں کچرا جلانے اور غیر قانونی ڈمپنگ سے شہریوں کی زندگی اجیرن، ماحولیاتی آلودگی میں خطرناک اضافہ
لاہور: لاہور کے علاقے بارکی روڈ اور آشیانہ روڈ کے اطراف واقع متعدد ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے مکین غیر قانونی طور پر ٹھوس کچرا پھینکے جانے اور اسے کھلے عام جلائے جانے کے باعث شدید ماحولیاتی آلودگی اور صحت کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ روزانہ ٹنوں کے حساب سے کچرا لا کر جلایا جاتا ہے، جس سے زہریلا دھواں پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔
متاثرہ رہائشیوں کے مطابق متعدد بار ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو شکایات درج کرائی گئیں، تاہم اب تک مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ کچرا جلنے سے بچوں، بزرگوں اور سانس کے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ فضائی آلودگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
رہائشیوں نے بتایا کہ حال ہی میں آشیانہ روڈ سے متصل ایک مقام پر کچرے کے بڑے ڈھیر کو آگ لگا دی گئی، جس سے دھواں قریبی آبادیوں تک پھیل گیا اور متعدد افراد کو کھانسی، سانس لینے میں دشواری اور دیگر طبی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔
واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ اس سے قبل بھی سموگ اور فضائی آلودگی کے پیش نظر غیر قانونی کچرا جلانے، فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے اور غیر قانونی ڈمپنگ کے خلاف سخت کارروائی کے احکامات جاری کر چکی ہے۔ عدالت نے گزشتہ برس شہر میں بڑھتی آلودگی پر ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی پر بھی اظہارِ برہمی کیا تھا۔
ضلعی انتظامیہ کے ترجمان کے مطابق غیر قانونی طور پر کچرا پھینکنے اور جلانے میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا جا چکا ہے، جبکہ ستھرا پنجاب ایجنسی لاہور (SPAL) نے بھی تصدیق کی ہے کہ اس حوالے سے اس کے انفورسمنٹ انسپکٹر کی جانب سے ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے۔
دوسری جانب لاہور کے ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ متعلقہ مقام کینٹونمنٹ بورڈ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، تاہم اگر تحریری شکایت موصول ہوئی تو معاملہ متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی، سموگ اور صحت عامہ کے خطرات سے بچنے کے لیے غیر قانونی ڈمپنگ اور کچرا جلانے کے عمل کو فوری طور پر روکا جائے اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔