اسلام آباد میں 3,600 سے زائد بچے تعلیم سے محروم

اسلام آباد (نمائندہ مقامی حکومت) وفاقی وزارت تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت نے اتوار کو بتایا کہ جاری مہم کے دوران 3,646 اسکول سے باہر بچوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ وفاقی سیکرٹری تعلیم ندیم محبوب نے ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے زیادہ سے زیادہ اسکول سے باہر بچوں کو داخل کرنے کے لیے بھرپور تعاون کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جاری مہم میں 3,646 بچوں کی نشاندہی ہوئی ہے اور سروے جاری ہے، اگلے مہینے ان بچوں کو اسکولوں میں داخل کرایا جائے گا۔

وفاقی سیکرٹری تعلیم نے بتایا کہ اسکول سے باہر بچوں کو سرکاری اور غیر رسمی اسکولوں میں جگہ دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ان بچوں کے لیے رسائی کو یقینی بنائیں اور ہاٹ سپاٹ علاقوں میں نئے غیر رسمی اسکول کھولیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جلد ہی 10 یونیورسٹیوں کے طلبہ اسکول سے باہر بچوں کی نشاندہی کی مہم میں وزارت تعلیم کے ساتھ شامل ہوں گے۔

وزارت تعلیم کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اس وقت تک تقریباً 4,000 بچوں کی نشاندہی اچھی پیشرفت ہے جو تین سالہ منصوبے کا اہم حصہ ہے جس کے پہلے مرحلے میں 25,000 بچوں کو اسکولوں میں داخل کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت وفاقی تعلیم کے تحت چلنے والے سرکاری اداروں میں داخلہ ترجیح ہوگی تاہم جن علاقوں میں سرکاری اسکولوں کی کمی ہے وہاں وزارت کمیونٹی اسکولوں کو استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔

وزارت تعلیم کے مطابق شناخت شدہ بچوں میں جنس کی تقسیم تقریباً برابر ہے جس میں 1,862 لڑکے (51 فیصد) اور 1,784 لڑکیاں (49 فیصد) شامل ہیں۔ قومی کمیشن برائے انسانی ترقی نے 2,877 بچوں کی نشاندہی میں قیادت کی ہے جبکہ دیگر تنظیموں نے بھی اس میں تعاون کیا۔ واضح رہے کہ پاکستان میں 26 ملین بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور 2023 کے سروے کے مطابق اسلام آباد میں تقریباً 89,000 اسکول سے باہر بچے تھے۔

متعلقہ خبریں