اسلام آباد میں نجی اسکولوں کی جانب سے 10 فیصد اسکالرشپ کوٹہ نظر انداز

5 ارب روپے سے زائد ہتھیانے کی خبر، اسلام آباد ہائی کورٹ میں انکشاف

اسلام آباد (نمائندہ مقامی حکومت) اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیر کو بتایا گیا کہ وفاقی دارالحکومت کے نجی تعلیمی ادارے سالانہ 5 سے 6 ارب روپے ہتھیا رہے ہیں کیونکہ وہ مستحق طلبہ کے لیے لازمی 10 فیصد اسکالرشپ کوٹہ لاگو کرنے میں ناکام ہیں۔ یہ انکشاف پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی فیسوں کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران ہوا۔

جسٹس راجا عنایت امین میاں نے سماعت کی۔ پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) کی طرف سے عدالت میں پیش کردہ رپورٹ کے مطابق ان اداروں کی جانب سے عدم تعمیر کی شدت نے دسیوں ہزار طلبہ کو مفت تعلیم کے حق سے محروم کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں 1,571 رجسٹرڈ نجی اسکول کام کر رہے ہیں جن میں 389,000 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ حق تعلیم ایکٹ 2012 کے تحت ہر نجی اسکول اپنی کل طلبہ تعداد کا 10 فیصد مستحق اور کم آمدنی والے گھرانوں کے ذہین طلبہ کو مفت تعلیم فراہم کرنے کا پابند ہے۔ اس حساب سے کم از کم 38,900 طلبہ کو ان اسکولوں میں مکمل مفت تعلیم ملنی چاہیے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ زیادہ تر نجی اداروں نے 10 فیصد پالیسی پر عمل درآمد نہیں کیا۔ ماہرین کے مطابق اس روکے گئے سبسڈی کی مالیاتی قیمت 5 سے 6 ارب روپے سالانہ بنتی ہے۔

پیرا نے عدالت کو بتایا کہ اس نے 26 ستمبر 2025 کو تمام رجسٹرڈ اداروں کو سرکلر جاری کرتے ہوئے اسکالرشپ کوٹہ کے تحت داخل طلبہ کے تفصیلی ریکارڈ فراہم کرنے کی ڈیڈ لائن دی تھی۔ پیرا نے عدالت کو بتایا کہ ڈیٹا اکٹھا کرنے اور تصدیق کرنے کا عمل وقت طلب اور جاری ہے تاہم پیرا اس بات کو یقینی بنائے گا کہ قانون کی روح کے مطابق تعمیل کی جائے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ پیرا ایکٹ اور 2012 کے وفاقی قانون کے تحت ڈیفالٹ کرنے والے اداروں کے خلاف سخت کارروائی پر غور کیا جا رہا ہے۔

درخواست گزار کی طرف سے درخواست واپس لینے کے بعد عدالت نے کوئی حتمی فیصلہ جاری نہیں کیا جس کے باعث 10 فیصد کوٹہ کے نفاذ کی صورتحال غیر یقینی ہو گئی ہے اور اربوں روپے کے تعلیمی سبسڈی کا معاملہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکا۔

متعلقہ خبریں