کراچی سٹی کونسل اجلاس میں پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے ارکان میں ہاتھا پائی

کراچی(نمائندہ مقامی حکومت) سٹی کونسل کے اجلاس میں جمعہ کے روز حکومتی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعت اسلامی کے ارکان کے درمیان شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی، جو ہاتھا پائی، لاتوں گھونسوں اور کرسیوں کے استعمال تک جا پہنچی۔

ہنگامہ اس وقت شروع ہوا جب پی پی پی کے بعض ارکان نے جماعت اسلامی کے اراکین کے اپوزیشن لیڈر کی نشست سے آگے بیٹھنے پر اعتراض کیا۔ اس پر دونوں جانب سے تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جو جلد ہی جھگڑے میں تبدیل ہوگیا۔

میئر مرتضیٰ وہاب کی موجودگی میں اجلاس کا ماحول کشیدہ ہوگیا اور دونوں جماعتوں کے ارکان آپس میں گتھم گتھا ہوگئے۔ اس دوران لاتوں، گھونسوں اور کرسیوں کا آزادانہ استعمال کیا گیا جبکہ بعض ارکان نے صورتحال کو قابو میں لانے کی کوشش بھی کی، تاہم ناکام رہے۔

جھگڑے کے دوران ایک رکن کو زمین پر گرا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، بعد ازاں دیگر ارکان نے مداخلت کر کے صورتحال کو کنٹرول کیا۔

واقعے کے بعد جماعت اسلامی کے ارکان نے اجلاس سے واک آؤٹ کر دیا۔

بعد ازاں اجلاس میں 13 قراردادیں منظور کی گئیں، جن میں پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کو سراہنے، مختلف ترقیاتی منصوبوں کی منظوری، کے ایم سی اسپتالوں کے عملے کیلئے مراعات میں اضافہ، ایمپریس مارکیٹ کی بحالی، اور دیگر انتظامی امور شامل تھے۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں میئر مرتضیٰ وہاب نے الزام عائد کیا کہ جماعت اسلامی کے ارکان نے ماحول خراب کیا، جبکہ اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ پی پی پی ارکان ہنگامہ آرائی کے ارادے سے آئے تھے۔

صورتحال کے پیش نظر اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دیا گیا۔

متعلقہ خبریں