حکومت پنجاب نے جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ میں ڈپٹی سیکریٹریز کی مزید 9 آسامیاں ختم کر دیں
لاہور: حکومت پنجاب نے جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ میں گریڈ 18 کے ڈپٹی سیکریٹریز کی مزید 9 آسامیاں ختم کر دی ہیں، جس پر ناقدین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ کی انتظامی خودمختاری مزید کمزور ہو جائے گی۔
محکمہ خزانہ پنجاب کی جانب سے 22 جولائی کو جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق ختم کی جانے والی آسامیوں میں لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ اور فنانس محکموں میں دو، دو ڈپٹی سیکریٹری، سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (S&GAD) میں چار، جبکہ لاء اینڈ پارلیمانی امور کے محکمے میں ایک ڈپٹی سیکریٹری کی آسامی شامل ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق یہ تمام آسامیاں مالی سال 2026-27 کے دوران فوری طور پر ختم کر دی گئی ہیں۔
یہ فیصلہ گزشتہ دو برسوں سے جاری انتظامی تنظیمِ نو کے سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
مئی 2024 میں حکومت پنجاب نے جنوبی پنجاب کے لیے 10 اسپیشل سیکریٹریز کی آسامیاں تو تخلیق کیں، تاہم اسی دوران جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ کے خودمختار محکموں کی تعداد بھی کم کر دی گئی۔
جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ کے بعض حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مسلسل انتظامی تبدیلیوں کے باعث اختیارات دوبارہ لاہور منتقل ہو رہے ہیں، جس سے سیکریٹریٹ کی عملی خودمختاری متاثر ہو رہی ہے۔
اس سے قبل حکومت نے لاہور میں تعینات آٹھ صوبائی سیکریٹریز کو جنوبی پنجاب کے متعلقہ محکموں کا اضافی چارج بھی دے دیا تھا، جسے انتظامی اختیارات کی مرکزیت اور ملتان و بہاولپور میں قائم سیکریٹریٹ کے کردار میں کمی کے طور پر دیکھا گیا۔
اسی طرح اکتوبر 2023 میں جنوبی پنجاب میں خدمات انجام دینے والے سینئر افسران کے لیے دی جانے والی خصوصی ری لوکیشن الاؤنس بھی واپس لے لیا گیا تھا، جس کے باعث حکام کے مطابق افسران کی حوصلہ شکنی ہوئی اور جنوبی پنجاب میں تعیناتی کی کشش کم ہوئی۔
جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ کا قیام 2020 میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ملتان اور بہاولپور میں ہیڈکوارٹرز کے ساتھ کیا تھا۔ اس کا مقصد اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے شہریوں کو لاہور جانے کے بجائے مقامی سطح پر سرکاری خدمات فراہم کرنا تھا۔
اس منصوبے کو جنوبی پنجاب کے لیے انتظامی خودمختاری کی جانب پہلا اہم قدم قرار دیا گیا تھا۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ڈپٹی سیکریٹریز کی مزید نو آسامیاں ختم ہونے کے بعد جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ کی انتظامی استعداد مسلسل کمزور ہو رہی ہے، جس سے خطے کو حقیقی اختیارات کی منتقلی کا مقصد مزید دور ہوتا جا رہا ہے۔