الیکشن کمیشن آف پاکستان کا خیبر پختونخوا بلدیاتی قانون میں ترامیم پر اعتراض، بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا خدشہ

اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ (ترمیمی) بل 2026 پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ ترامیم آئینی اختیارات سے متصادم ہیں اور ان کے باعث صوبے میں بلدیاتی انتخابات مزید تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے جمعرات کو خیبر پختونخوا کے چیف سیکریٹری کو ارسال کیے گئے خط میں اس ترمیمی بل کا حوالہ دیا، جسے صوبائی اسمبلی نے 6 جولائی کو منظور کیا تھا جبکہ 16 جولائی کو گورنر خیبر پختونخوا نے اس کی منظوری دی۔

ای سی پی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (لوکل گورنمنٹ الیکشنز) چوہدری ندیم قاسم کے دستخطوں سے جاری ہونے والے خط میں خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کی دفعہ 6(5)(e) میں کی گئی ترامیم پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

ترمیم کے مطابق ہر ضلع میں گاؤں اور محلہ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، جس میں 10 فیصد تک گنجائش رکھی گئی ہے اور اس کا تعین ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ ترمیم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مخصوص حالات میں الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط میں نرمی کر سکتا ہے۔

الیکشن کمیشن نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ ترمیم آئین کے آرٹیکل 222(b) اور الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعات 221(1) اور 221(9)سے متصادم ہے، جن کے تحت بلدیاتی حلقہ بندیاں کرنا الیکشن کمیشن کا آئینی اختیار ہے۔

کمیشن نے مزید کہا کہ کسی بھی استثنا کے لیے حکومت سے مشاورت کی شرط بھی آئین کی روح کے خلاف ہے، کیونکہ آئین کے مطابق کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات کو محدود یا کم نہیں کر سکتا۔

ای سی پی کے مطابق موجودہ نائنتھ شیڈول میں درج گاؤں اور محلہ کونسلوں کی تعداد کے پیش نظر نئی آبادی کی حد پر عملدرآمد عملی طور پر ممکن نہیں اور اس سے حلقہ بندیوں کے عمل میں ابہام پیدا ہوگا۔

الیکشن کمیشن نے اپنے خط میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ اس مرحلے پر قانون میں ایسی ترامیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا سبب بن سکتا ہے۔

ای سی پی نے خیبر پختونخوا حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان ترامیم پر نظرثانی کرے تاکہ صوبے میں بلدیاتی انتخابات آئینی تقاضوں کے مطابق بروقت اور شفاف انداز میں منعقد کیے جا سکیں۔

متعلقہ خبریں