دفتر کے بیت الخلا استعمال کرنے پر ایم پی اے کے بیٹے سے جھگڑے کے بعد ڈی پی او حافظ آباد تبدیل
لاہور: حافظ آباد کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) کامران حمید کو مبینہ طور پر ایک مقامی ایم پی اے کے بیٹے سے دفتری بیت الخلا کے استعمال پر جھگڑے کے بعد عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے حکم پر پنجاب کے آئی جی پولیس عبدالکریم نے دونوں فریقین کو سننے کے بعد یہ فیصلہ کیا۔
ذرائع کے مطابق یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب پی ایم ایل این کے ایم پی اے شاہد بھٹی اپنے چھوٹے بیٹے اور اپنے حلقے کے کچھ شہریوں کے ہمراہ ڈی پی او حافظ آباد کے دفتر پہنچے۔ ایم پی اے وزیراعلیٰ کی ہدایت پر عوام کے پولیس سے متعلق مسائل حل کرنے کے لیے آئے تھے۔
اجلاس کے دوران ایم پی اے کے بیٹے نے موبائل فون پر بات کرنی شروع کی جس پر ایم پی اے نے بھی انہیں ٹوکا۔ بعد ازاں یہ نوجوان ڈی پی او کے ریٹائرنگ روم میں گیا اور ممکنہ طور پر وہاں موجود بیت الخلا استعمال کیا۔ جب وہ باہر آیا تو ڈی پی او نے ان سے پوچھا کہ انہوں نے اجازت کے بغیر ان کا ذاتی واش روم کیوں استعمال کیا۔
جواب میں ایم پی اے کے بیٹے نے کہا کہ یہ ایک سرکاری دفتر ہے اور یہ ڈی پی او کا ذاتی واش روم نہیں ہے۔ اس پر دونوں فریقین کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور ڈی پی او نے غصے میں ایم پی اے کے بیٹے کو ‘نکل جاؤ’ کہہ دیا۔
میمبر اسمبلی نے بیٹے کو مشورہ دیا کہ وہ پرسکون رہے اور دفتر سے نکل جائیں۔ تاہم ان کے ہمراہ آنے والے کچھ افراد نے ڈی پی او کے رویے کو علاقے کی ایک اہم سیاسی شخصیت کی توہین قرار دیا جس سے تنازع مزید بڑھ گیا۔
ممبر اسمبلی نے بعد ازاں معاملہ پی ایم ایل این کی سینئر رہنما سائرہ افضل تارڑ کو بتایا جنہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے اس پر بات کی۔ اس کے بعد ڈی پی او کی منتقلی کے لیے لابنگ شروع ہو گئی۔
آئی جی پنجاب عبدالکریم نے دونوں فریقین کو سنا اور وزیراعلیٰ کو اپنی رپورٹ پیش کی۔ وزیراعلیٰ کے حکم پر کامران حمید کو حافظ آباد سے ہٹا کر پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی میں معمولی عہدے پر تعینات کر دیا گیا۔