کراچی میں ٹرانسپورٹرز کی چار روزہ ہڑتال ختم، ہزاروں بسیں سڑکوں پر واپس آگئیں
کراچی: کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ آپریٹرز نے حکام کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد چار روز سے جاری پہیہ جام ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا، جس کے بعد شہر بھر میں ہزاروں بسیں، منی بسیں اور کوچز دوبارہ سڑکوں پر آنا شروع ہوگئیں، جبکہ شہریوں نے بھی سکھ کا سانس لیا۔
کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد (KTI) کے صدر حاجی طواب خان نے بتایا کہ کراچی کمشنر سید حسن نقوی کی سربراہی میں ہونے والے مذاکرات میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ، سیکریٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی، ڈی آئی جی ٹریفک اور محکمہ ایکسائز کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز کے اہم مطالبات، جن میں ای چالان، ڈبل بائیومیٹرک تصدیق اور تھرڈ پارٹی انشورنس سے متعلق مسائل شامل تھے، پر حکام نے مثبت یقین دہانی کرائی ہے۔ ان کے مطابق بعض مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں گے جبکہ دیگر معاملات آئندہ 30 روز کے اندر نمٹا دیے جائیں گے۔
حاجی طواب خان نے بتایا کہ ٹرانسپورٹرز کا بنیادی مطالبہ 7,500 روپے کے ای چالان جرمانے میں کمی کرنا تھا۔ انہوں نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ جرمانے کو کم کرکے 2,000 روپے مقرر کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ڈبل بائیومیٹرک تصدیق کی شرط بھی ٹرانسپورٹرز کے لیے مشکلات کا باعث بن رہی ہے، کیونکہ زیادہ تر گاڑیاں اقساط پر خریدی جاتی ہیں اور ان کی ملکیت کی منتقلی میں وقت درکار ہوتا ہے۔ اس لیے حکومت سے اس معاملے میں مناسب مہلت دینے کی درخواست کی گئی ہے۔
تھرڈ پارٹی انشورنس کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ ٹرانسپورٹرز انشورنس کے مخالف نہیں، تاہم انہیں کسی مخصوص کمپنی سے انشورنس لینے کا پابند نہ بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ انشورنس کی فیس وقت کے ساتھ بڑھ کر 12 ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے، جس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کے مطابق شہر میں تقریباً 7 ہزار سے 7,500 بسیں، منی بسیں اور کوچز چلتی ہیں، جن میں سے متعدد گاڑیاں ہڑتال ختم ہونے کے فوراً بعد سڑکوں پر واپس آنا شروع ہوگئیں، جس سے شہریوں کی آمدورفت کی مشکلات میں نمایاں کمی آئی۔