سیاحوں کے غیرمعمولی رش سے وادی سوات میں شدید ٹریفک جام، مقامی شہری مشکلات کا شکار

سوات: محرم الحرام کی تعطیلات کے دوران وادی سوات میں آنے والے ہزاروں سیاحوں کے باعث مدین، بحرین، کالام، مالم جبہ، مہوڈنڈ جھیل اور دیگر سیاحتی مقامات کو جانے والی سڑکوں پر شدید ٹریفک جام دیکھنے میں آیا، جس سے سیاحوں کے ساتھ مقامی شہری بھی گھنٹوں گاڑیوں میں پھنسے رہے۔

سوات-کالام مرکزی شاہراہ پر گاڑیوں کی طویل قطاروں کے باعث معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہوئے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ہر تعطیلاتی سیزن میں سیاحوں کی بڑی تعداد کی آمد کے باوجود مؤثر ٹریفک مینجمنٹ نہ ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

شہریوں کے مطابق ٹریفک جام کی وجہ سے ہسپتالوں، بازاروں، تعلیمی اداروں اور دفاتر تک بروقت پہنچنا مشکل ہو گیا، جبکہ علاج کی غرض سے سفر کرنے والے مریضوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ سیاحت سے علاقے کی معیشت کو فائدہ ضرور پہنچتا ہے، تاہم بالائی سوات میں گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر مناسب منصوبہ بندی نہ ہونے کے باعث ٹریفک کے مسائل مسلسل سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔

بحرین کے رہائشی محمد اسرار نے مطالبہ کیا کہ تعطیلات اور سیاحتی سیزن کے دوران جامع ٹریفک مینجمنٹ پلان نافذ کیا جائے تاکہ مریضوں، بزرگ شہریوں اور مقامی آبادی کو بروقت آمدورفت کی سہولت میسر آ سکے۔

مدین کے رہائشی شہزاد خان نے کہا کہ مختصر فاصلے طے کرنے میں بھی کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں، اس لیے متعلقہ ادارے گاڑیوں کی آمد کو منظم کرنے اور ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

کالام کے رہائشی نیاز علی نے کہا کہ ہر تعطیلاتی موسم میں یہی صورتحال پیدا ہوتی ہے، جس سے طلبہ، مریضوں اور مقامی آبادی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیاحتی علاقوں میں ٹریفک کے مستقل اور مؤثر انتظام کے لیے جامع نظام متعارف کرایا جائے۔

واضح رہے کہ سوات پاکستان کے مقبول ترین سیاحتی مقامات میں شمار ہوتا ہے، جہاں محرم کی تعطیلات کے دوران ملک بھر سے آنے والے سیاحوں کے باعث شاہراہوں پر غیرمعمولی ٹریفک کا دباؤ دیکھنے میں آیا۔

متعلقہ خبریں