برطانیہ میں سابق میئر اور اس کے بیٹے کو ریپ کے مقدمے میں قید کی سزا
لندن: برطانیہ میں ایک سابق میئر اور اس کے بیٹے کو عصمت دری کے مقدمے میں عدالت نے طویل قید کی سزا سنائی ہے۔ بریکنیل فارسٹ کونسل کی پہلی مسلم میئر ناہید اعجاز (61) کو تین سال اور ان کے بیٹے دیوان خان (41) کو 12 سال قید کی سزا دی گئی ہے۔
دیوان خان پر 2024 کے موسم گرما میں 15 سالہ لڑکی کے ساتھ عصمت دری کا الزام تھا۔ مقدمے کی سماعت کے دوران بتایا گیا کہ خان نے متاثرہ لڑکی کو ایکسٹیسی اور ووڈکا پلانے کے بعد اس کے ساتھ زیادتی کی اور اپنے موبائل فون پر اسے ریکارڈ کیا۔
ناہید اعجاز پر الزام تھا کہ جب ستمبر 2024 میں پولیس ان کے گھر پہنچی تو انہوں نے اپنے بیٹے کے ساتھ اردو میں بات کر کے شواہد کو چھپانے کی سازش کی۔ پولیس کے مطابق انہوں نے بیٹے کا موبائل فون چھپا دیا جو آج تک برآمد نہیں ہو سکا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ دیوان خان نے متاثرہ لڑکی کو بتایا تھا کہ وہ "میئر کا ساتھی” ہے اور وہ اپنی والدہ کے ساتھ سرکاری تقریبات میں شریک ہوتا تھا۔ متاثرہ لڑکی پر اس واقعے کے شدید ذہنی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور وہ اب بھی ذہنی صحت کی خدمات حاصل کر رہی ہے۔
عدالت نے مزید بتایا کہ دیوان خان کا ماضی بھی جرائم سے بھرا ہے اور وہ 2013 میں کوکین سپلائی کرنے کے جرم میں دو سال قید بھی رہ چکا ہے۔
سزا سنانے کے بعد بریکنیل فارسٹ کونسل نے ناہید اعجاز کی سرکاری تصویر کو اپنے ہیڈکوارٹر سے ہٹا دیا ہے اور ان کے اور ان کے بیٹے کے ٹیکسی لائسنس رکھنے کے معاملے کی بھی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔
پولیس افسر کا کہنا ہے کہ اس مقدمے میں متاثرہ لڑکی نے زبردست بہادری کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس سزا سے متاثرہ کی بحالی میں مدد ملے گی اور دیگر متاثرین کو بھی انصاف حاصل کرنے کی ترغیب ملے گی۔