متحدہ نے قومی اسمبلی میں کراچی میں پانی کی قلت اور کے۔فور کی تاخیر کا مسئلہ اٹھا دیا

اسلام آباد: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے قانون سازوں نے قومی اسمبلی میں کراچی میں پانی کی قلت کا مسئلہ اٹھایا اور کے فور پروجیکٹ کی تکمیل میں غیرمعمولی تاخیر پر سندھ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

متحدہ کے رہنما سید امین الحق نے کہا کہ یہ منصوبہ 2010 میں شروع کیا گیا تھا اور اگلے پانچ سال تک شیلف پر پڑا رہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وفاقی اور صوبائی سندھ حکومت کا مشترکہ منصوبہ ہے اور صوبے نے اس پر دو فیصد سے بھی کم کام کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ منصوبے کی ابتدائی تخمینہ لاگت 26 ارب روپے تھی جو آج بڑھ کر 126 ارب روپے ہو گئی ہے۔

پارلیمانی سیکرٹری معین وٹو نے کہا کہ وفاقی حکومت اور واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی موجودہ کیلنڈر سال میں اس منصوبے کا اپنا حصہ مکمل کر لیں گے۔ متحدہ کے رہنما خواجہ اظہارالحسن نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ منصوبہ 2030 تک بھی مکمل نہیں ہو گا۔

متحدہ نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بھیجا جائے اور اس کا اجلاس کراچی میں منعقد کیا جائے۔

متحدہ کے رکن سید حفیظ الدین نے کہا کہ پانی اور بجلی کی قلت کی وجہ سے ملک کے صنعتی مرکز کراچی کی صنعت ٹھپ ہو گئی ہے۔ دوسرے رہنما وسیم احمد نے کہا کہ حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کو پرائیویٹ نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ اس نے شاندار کارکردگی دکھائی ہے۔

دوسری طرف وزیراعظم شہباز شریف سے خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں متحدہ کے وفد نے ملاقات کی اور آئندہ وفاقی بجٹ، سندھ اور کراچی میں عوامی فلاح کے منصوبوں اور ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ متحدہ وفاقی حکومت کا اہم اتحادی ہے اور اس نے عوامی فلاح کے لیے حکومت کے ہر اقدام کی حمایت کی ہے۔

متعلقہ خبریں