امیر جماعت اسلامی کا کراچی کی تباہی پر سندھ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ

کراچی (نمائندہ مقامی حکومت) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے سندھ حکومت، خصوصاً پاکستان پیپلز پارٹی کو کراچی کے شہری مسائل پر شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ حکمران جماعت نے شہر کو تباہ کر دیا ہے اور جنہوں نے میئر مسلط کیا وہی اب حالات بہتر کریں۔

ہفتہ کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی گزشتہ 18 برس سے سندھ میں برسراقتدار ہے اور اس عرصے میں کراچی کو صرف بدانتظامی، لوٹ مار اور کرپشن کا سامنا رہا۔ انہوں نے کہا کہ شہر کے مسائل حل کرنے کے بجائے حکمرانوں نے حالات مزید خراب کیے ہیں۔

انہوں نے ایک بااختیار بلدیاتی نظام کے قیام کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ کراچی سمیت ملک بھر میں مضبوط اور خودمختار لوکل گورنمنٹ سسٹم ناگزیر ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کو شہریوں کے لیے مشکلات کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہر کو اس منصوبے کی ضرورت نہیں تھی بلکہ اس کے بجائے 1500 سے 2000 بڑی بسیں فراہم کی جا سکتی تھیں۔ انہوں نے کریم آباد انڈر پاس پر 4 ارب روپے خرچ ہونے کے باوجود محدود سہولت فراہم کرنے پر بھی تنقید کی۔

انہوں نے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ 43 ارب روپے کے بجٹ کے باوجود شہر کچرے کا ڈھیر بن چکا ہے۔ ان کے بقول صفائی کا نظام بدعنوانی کا شکار ہو چکا ہے۔

انہوں نے کے-فور منصوبے میں تاخیر پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ کئی ماہ سے تعطل کا شکار ہے، جبکہ کراچی سرکلر ریلوے اور بی آر ٹی گرین لائن جیسے منصوبے بھی برسوں سے مکمل نہیں ہو سکے۔

علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کے ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کردار کو سراہا، تاہم تجویز دی کہ ایران اور ترکی کو بھی دفاعی تعاون میں شامل کیا جائے تاکہ مسلم دنیا میں اتحاد کو فروغ مل سکے۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک موجودہ صورتحال میں اسرائیل کا کردار برقرار ہے۔ انہوں نے خلیجی ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی پالیسیوں اور دفاعی معاہدوں پر نظرثانی کریں۔

داخلی امور پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے حکومتی اخراجات میں کمی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں سرکاری گاڑیوں کا انجن 1300 سی سی سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور بھاری ٹیکسز کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے تعلیمی اداروں کی بندش پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے فوری طور پر اسکولوں، کالجوں اور جامعات کو کھولنے کا مطالبہ کیا، جبکہ پاکستان-ایران تجارت کی بحالی پر زور دیا۔

انہوں نے اعلیٰ حکومتی شخصیات کے پروٹوکول پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو مشکلات کا سامنا ہے جبکہ حکمران شاہانہ انداز اپنائے ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں