اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے صرف پالیسیاں کافی نہیں بلکہ عوامی رویوں میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی بحران سے نمٹنے میں سب سے بڑی رکاوٹ عملی ارادے اور سنجیدگی کی کمی ہے۔
وہ بدھ کو ڈان میڈیا گروپ کے زیر اہتمام دو روزہ “بریتھ پاکستان کلائمیٹ کانفرنس” سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیر قانون نے کہا کہ جب تک لوگ اپنی روزمرہ عادات تبدیل نہیں کریں گے، ایسی کانفرنسیں محض گفتگو تک محدود رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ پلاسٹک بیگز کے استعمال پر برسوں سے پابندی کی بات کی جا رہی ہے لیکن آج بھی یہ ہر جگہ استعمال ہو رہے ہیں۔ اسی طرح لوگ معمولی کاموں کیلئے بھی بڑی گاڑیاں استعمال کرتے ہیں جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ کو ترجیح نہیں دی جاتی۔
اعظم نذیر تارڑ نے لاہور کی اورنج لائن میٹرو ٹرین کو تیز، صاف اور جدید ٹرانسپورٹ کی بہترین مثال قرار دیتے ہوئے عوام پر زور دیا کہ وہ ذاتی گاڑیوں کے بجائے پبلک ٹرانسپورٹ اپنانے کی عادت ڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ تبدیلی کا آغاز ہر فرد کو خود سے کرنا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں ماحولیاتی تحفظ کیلئے قانونی فریم ورک میں زیادہ خلا نہیں بلکہ اصل مسئلہ ان قوانین پر عملدرآمد کیلئے مضبوط عزم کا فقدان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آج مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں بھی انہی ماحولیاتی مسائل کا سامنا کریں گی۔
اس موقع پر قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر غلام مصطفیٰ شاہ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے وفاق اور صوبوں کے درمیان مؤثر رابطہ اور تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئینی ترامیم کے بعد ماحولیاتی تحفظ کو مزید اہمیت حاصل ہوئی ہے اور اب اصل چیلنج پالیسی سازی نہیں بلکہ اس پر عملدرآمد ہے۔
سندھ اسمبلی کے رکن مخدوم فخر الزمان نے کہا کہ سندھ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو براہ راست برداشت کر رہا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2022 کے سیلاب سے ایک کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے جبکہ انڈس ڈیلٹا کا رقبہ بھی خطرناک حد تک کم ہو چکا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کو صرف بحران نہیں بلکہ ایک اہم موڑ سمجھتے ہوئے حقیقت پسندانہ قانون سازی اور عملی اقدامات کیے جائیں۔