کے ڈبلیو ایس سی پانی کی قلت پر سندھ اسمبلی میں شدید تنقید کی زد میں

کراچی: حزب اختلاف کے قانون سازوں نے کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (کے ڈبلیو ایس سی) اور کے الیکٹرک کو گزشتہ دس روز سے جاری شدید پانی کے بحران اور طویل بجلی بندش پر منگل کو سندھ اسمبلی کے اجلاس میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رکن عبدالوسیم نے شہر کی واحد پانی کی فراہم کنندہ کمپنی کے ڈبلیو ایس سی کی شدید گرمی میں پانی کی ہموار فراہمی یقینی بنانے میں ناکامی پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ پورا شہر خصوصاً ضلع وسطی گزشتہ دس روز سے پانی کے بغیر ہے جب اہم سپلائی لائن پھٹ گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ خراب لائن کی مرمت کر دی گئی تھی لیکن بجلی کی بندش کی وجہ سے یہ دوبارہ پھٹ گئی۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے بحران کی وجہ سے لوگوں کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ عبدالوسیم نے کہا کہ شہر میں گیس کی شدید قلت اور بجلی کی بندش پہلے سے موجود ہے اور شدید گرمی ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ شہر کے مسائل حل کیے جائیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر شبیر قریشی نے کے الیکٹرک پر بغیر اعلان کے 12 گھنٹے سے زائد کی بجلی بندش کرنے پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ طویل بجلی بندش سے جاری امتحانات میں شریک طلبہ شدید متاثر ہوئے ہیں۔

ادھر ایوان کے کارروائی کے دوران ڈپٹی اسپیکر انتھونی نوید نے حزب اختلاف کے اراکین کی جانب سے پوائنٹس آف آرڈر اٹھانے کے فوری بعد کارروائی جمعرات تک ملتوی کر دی جس کی وجہ سے رکن روز کے ایجنڈے پر کوئی کارروائی نہ ہو سکی۔

گزشتہ روز سوالیہ گھنٹے کے دوران اراکین کے تحریری اور زبانی سوالات کے جواب میں سندھ کے ثقافت اور سیاحت کے وزیر سید ذوالفقار علی شاہ نے بتایا کہ صوبے میں اس وقت 12 میوزیم فعال ہیں جہاں سیاحوں اور زائرین کے لیے مختلف سہولیات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک کے صدر نے حال ہی میں موئن جو دڑو کا دورہ کیا اور انہوں نے حزب اختلاف کے اراکین کو بھی موئن جو دڑو آنے کی دعوت دی۔

متعلقہ خبریں