بلدیہ فیکٹری آتشزدگی کیس میں بری ہونے والوں کے خلاف انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے: جماعت اسلامی کا فیصلے پر شدید تحفظات

کراچی: جماعت اسلامی کراچی کے قائم مقام سربراہ سعید الدین ایڈووکیٹ نے بلدیہ فیکٹری آتشزدگی کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سانحے میں 259 مزدوروں کی جانیں گئیں، اب سوال یہ ہے کہ اگر بری کیے جانے والے افراد مجرم نہیں تو پھر اصل مجرم کون ہے؟

سعیدالدین ایڈووکیٹ نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر "شدید مایوسی” کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جہاں ایک طرف کسی بے گناہ کو سزا نہیں ہونی چاہیے، وہیں اس سانحے کے اصل ذمہ داروں کی نشاندہی کر کے انہیں قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لانا ضروری ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ اگر عدالتوں میں پیش کی جانے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹس غلط پائی گئیں تو پھر اس نوعیت کے سنگین مقدمے کی تفتیش کو غلط سمت دینے والوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟

جماعت اسلامی رہنما نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے سنگین سوالات کو جنم دیا ہے کیونکہ اس سے قبل انسداد دہشت گردی عدالت اور ہائی کورٹ نے شواہد کی روشنی میں مختلف نتائج اخذ کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ فیکٹری مالکان سے 25 کروڑ روپے کی بھتہ طلبی کے الزامات کا کیا ہوا؟

انہوں نے استفسار کیا کہ اس فیصلے کے بعد متاثرہ خاندان کہاں کھڑے ہیں اور کیا انہیں کبھی انصاف مل پائے گا؟ سعیدالدین کا کہنا تھا کہ سانحے کو قریب 14 سال بیت چکے ہیں اور متاثرہ خاندان ابھی تک انصاف کے منتظر ہیں۔

جماعت اسلامی کراچی نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ انصاف، شفافیت اور قانون کی بالادستی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

متعلقہ خبریں