چکوال فائرنگ کیس: معصوم حانیہ کی موت، تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل

چکوال: کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کی خوشیاں ماتم میں بدل گئیں۔ واقعے میں 9 سالہ معصومہ حانیہ احمد جاں بحق جبکہ اس کے والد عدیل احمد اور 10 سالہ بھائی آفان احمد شدید زخمی ہو گئے۔

عدیل احمد آسٹریلوی شہری اور ڈھڈیال کے رہائشی ہیں۔ وہ اپنی اہلیہ ڈاکٹر سدرہ خان، بیٹے آفان اور بیٹی حانیہ کے ہمراہ حال ہی میں پاکستان آئے تھے۔ میاں بیوی حج کی سعادت حاصل کرکے بدھ کی صبح وطن واپس پہنچے تھے۔

مقتولہ کے ماموں راجہ علی اعجاز کے مطابق عشائیے کے بعد عدیل احمد رات 11:40 بجے سسرال سے روانہ ہوئے۔ راستے میں ان کی اہلیہ نے اپنے ماموں کے گھر جانے کی خواہش ظاہر کی، جو سی سی ڈی کے تھانے سے متصل ہے۔ گاڑی گھر کے سامنے رکی ہی تھی کہ دو مسلح ڈاکو آ گئے۔ انہوں نے عدیل احمد اور ڈاکٹر سدرہ سے زیورات اور نقدی کا مطالبہ کیا۔ خاتون نے تقریباً پانچ لاکھ روپے مالیت کے زیورات ڈاکو کے حوالے کر دیے۔

پولیس کے مطابق اس دوران باہر سے کھانا کھا کر واپس آنے والے ایک سی سی ڈی اہلکار کی نظر ڈاکو پر پڑ گئی۔ اہلکار دوڑ کر تھانے گیا اور ایک کانسٹیبل سے ایس ایم جی رائفل لے کر ڈاکوؤں پر فائرنگ شروع کر دی۔ ڈاکوؤں نے بھی جوابی فائرنگ کی اور فرار ہو گئے۔

فائرنگ کے شور سے خوفزدہ ہو کر عدیل احمد نے گاڑی وہاں سے نکالی۔ پولیس نے گاڑی کو تیزی سے نکلتے دیکھ کر اسے ڈاکوؤں کی گاڑی سمجھ لیا اور اہلکاروں نے گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں حانیہ جاں بحق ہو گئی جبکہ عدیل احمد اور آفان شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے بعد حکومت نے تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جائے گی اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

متعلقہ خبریں