موسمیاتی تبدیلی کے باعث اندرونی ہجرت میں اضافہ، غیر منصوبہ بند شہری آبادی بڑا چیلنج قرار

اسلام آباد: ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث پاکستان میں اندرونی ہجرت تیزی سے بڑھ رہی ہے، جبکہ غیر منصوبہ بند شہری آبادی بڑے شہروں میں غربت، عدم مساوات اور بنیادی سہولیات پر دباؤ میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔

یہ بات "بریتھ پاکستان کلائمیٹ چینج کانفرنس 2026” کے دوسرے روز منعقدہ اجلاس میں سامنے آئی، جہاں ماہرین، حکومتی نمائندوں اور بین الاقوامی اداروں کے ماہرین نے موسمیاتی تبدیلی کے سماجی اور شہری اثرات پر تفصیلی گفتگو کی۔

انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (IOM) کی ریکوری ایڈوائزر سمیرا اظہار نے بتایا کہ پاکستان میں ایک کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد موسمیاتی جھٹکوں، سیلاب، خشک سالی اور دیگر ماحولیاتی عوامل کے باعث اپنے علاقوں سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق ماضی میں ہجرت کی بڑی وجہ روزگار ہوا کرتی تھی، مگر اب موسمیاتی تبدیلی اندرونی نقل مکانی کا اہم سبب بن چکی ہے۔

اربن یونٹ کے چیف ایگزیکٹو محمد عمر مسعود نے کہا کہ پنجاب کی تقریباً 45 فیصد آبادی اب شہری علاقوں میں رہائش پذیر ہے، تاہم مؤثر شہری منصوبہ بندی اور مضبوط ادارہ جاتی نظام کے بغیر صرف اعدادوشمار مسائل کا حل نہیں بن سکتے۔

یو این ہیبی ٹیٹ پاکستان کے جاوید علی خان نے کہا کہ اسلام آباد اور لاہور میں شہری سیلاب اور کراچی میں بڑھتا ہوا ہیٹ آئی لینڈ ایفیکٹ اس بات کا ثبوت ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی شہری انفراسٹرکچر کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے، جس کے پیش نظر موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ شہری منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔

این ای ڈی یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر نعمان احمد نے کہا کہ دیہی علاقوں میں روزگار کے مواقع کم ہونے کے باعث لوگ شہروں کا رخ کر رہے ہیں، جہاں انہیں کچی آبادیوں، بے دخلی اور ناقص رہائشی حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے تجاوزات کے خلاف کارروائیوں کو غریب طبقے کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے متاثرہ افراد کی مشکلات کو مدنظر رکھنے پر زور دیا۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ پنجاب حکومت نے ماحول دوست اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ ترقیاتی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہر ترقیاتی منصوبے کے بجٹ کا ایک فیصد حصہ موسمیاتی تحفظ کے لیے مختص کیا گیا ہے، جبکہ صوبے میں 1,100 الیکٹرک بسیں متعارف کرائی جا رہی ہیں، 59 فضائی معیار مانیٹرنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں اور صنعتی آلودگی کی نگرانی کے لیے جدید ڈیجیٹل کلائمیٹ واچ ڈیش بورڈ بھی فعال ہے۔

ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اگر جامع شہری منصوبہ بندی، مؤثر پالیسی سازی اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ اقدامات نہ کیے گئے تو شہری غریب طبقہ مستقبل میں سب سے زیادہ متاثر ہوگا۔

متعلقہ خبریں