قومی اسمبلی کی کمیٹی کا اسلام آباد میں آلودہ پانی اور ماحولیاتی خرابی پر اظہار تشویش، قدرتی ندی نالوں میں گندا پانی چھوڑنے کا نوٹس

اسلام آباد: قائمہ کمیٹی کا اجلاس قائم مقام چیئرپرسن ڈاکٹر شازیہ صوبیہ اسلم سومرو کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں اسلام آباد کی آبی آلودگی، ماحولیاتی تحفظ، موسمیاتی مالیات، گرین ٹیکسانومی، فضائی معیار اور الیکٹرک وہیکل (EV) پالیسی سمیت مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں وزارت موسمیاتی تبدیلی کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ قدرتی ندی نالوں میں غیر قانونی طور پر گندا پانی چھوڑنے کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ راول ڈیم میں آلودگی کم کرنے کے لیے کورنگ نالہ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ پر بھی کام جاری ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ نئے قومی فضائی معیار (National Ambient Air Quality Standards) ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کی تکنیکی معاونت سے رواں سال حتمی شکل دیے جانے کا امکان ہے۔

وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ مصدق ملک نے اجلاس کو بتایا کہ محدود مالی وسائل کے باوجود وزارت قومی اہمیت کے منصوبوں کو ترجیح دے رہی ہے، جن میں نباتاتی باغ (Botanical Garden)، فضائی معیار کی بہتری اور پانی کے معیار کی جانچ سے متعلق منصوبے شامل ہیں۔

اجلاس میں پاکستان کی الیکٹرک وہیکل (EV) پالیسی پر بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ ملک بھر میں 100 سے زائد ای وی چارجنگ اسٹیشنز کی منظوری دی جا چکی ہے، جبکہ اسلام آباد میں نئے قائم ہونے والے پٹرول پمپس پر ای وی چارجنگ سہولت فراہم کرنا لازمی ہوگا۔ بیٹری ری سائیکلنگ پالیسی بھی تیار کر لی گئی ہے جو منظوری کے مرحلے میں ہے۔

ارکان کمیٹی نے ای وی چارجنگ انفراسٹرکچر، الیکٹرک گاڑیوں کی قیمت، بیٹری ری سائیکلنگ، مقامی مینوفیکچرنگ اور طویل المدتی پائیداری سے متعلق سوالات اٹھائے۔

کمیٹی نے وزارت کو ہدایت کی کہ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ اجسام (GMOs) اور بائیو سیفٹی پالیسی پر تفصیلی بریفنگ دی جائے، گاڑیوں کے اخراج کی جانچ کرنے والی تمام منظور شدہ لیبارٹریوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں، جبکہ مارگلہ ہلز نیشنل پارک کی قانونی حدود اور حد بندی سے متعلق جامع رپورٹ بھی پیش کی جائے۔

اجلاس میں مختلف وزارتوں، کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ خبریں