اسلام آباد میں بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کا کامیاب منصوبہ، زیرِ زمین پانی کی سطح میں نمایاں بہتری

اسلام آباد: انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ نے اسلام آباد کے سیکٹر آئی-8 میں واقع کچنار پارک میں زیرِ زمین پانی کی بحالی اور بارش کے پانی کو محفوظ بنانے (رین واٹر ہارویسٹنگ) کے منصوبے کا میڈیا کو دورہ کرایا، جہاں اسے شہری سیلاب اور زیرِ زمین پانی کی گرتی ہوئی سطح سے نمٹنے کا مؤثر اور ماحول دوست حل قرار دیا گیا۔

اس منصوبے کو واٹر ایڈ (WaterAid) اور پاکستان کونسل آف ریسرچ اِن واٹر ریسورسز (PCRWR) کے اشتراک سے مکمل کیا گیا ہے۔ منصوبے کے تحت بارش کے پانی کو خصوصی ری چارج ویل کے ذریعے زیرِ زمین آبی ذخائر تک پہنچایا جاتا ہے، جس سے نہ صرف شہری علاقوں میں بارش کے پانی کا دباؤ کم ہوتا ہے بلکہ زیرِ زمین پانی کے ذخائر بھی بحال ہوتے ہیں۔

آئی ڈبلیو ایم آئی کے اسٹریٹجک پروگرام ڈائریکٹر برائے واٹر، فوڈ اینڈ ایکوسسٹمز ڈاکٹر محسن حفیظ نے میڈیا کو بتایا کہ 2022 کے مون سون سیزن میں کچنار پارک کے ری چارج ویل کے ذریعے تقریباً 19 لاکھ گیلن بارش کا پانی زیرِ زمین پہنچایا گیا، جس سے مقامی واٹر ٹیبل تقریباً چار میٹر بلند ہوئی اور نالہ لئی میں سیلابی دباؤ میں بھی کمی آئی۔

انہوں نے بتایا کہ ان مثبت نتائج کے بعد کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) نے اسلام آباد میں مزید 50 ری چارج ویلز نصب کیے، جنہوں نے 2022 کے مون سون کے دوران مجموعی طور پر تقریباً ایک کروڑ گیلن پانی زیرِ زمین ذخائر میں منتقل کیا۔

ڈاکٹر محسن حفیظ کے مطابق 2025 کے شدید مون سون کے دوران صرف کچنار پارک کا ری چارج ویل تقریباً ایک کروڑ 90 لاکھ گیلن بارش کے پانی کو زمین میں منتقل کرنے میں کامیاب رہا، جس سے نکاسی آب کے نظام پر دباؤ کم ہوا اور اردگرد کے علاقوں میں خشک ٹیوب ویلز کی بحالی میں بھی مدد ملی۔

منصوبے میں زیرِ زمین پانی کی نگرانی کے لیے جدید آلات، جن میں پیزومیٹر، موسمیاتی اسٹیشن اور رین گیج شامل ہیں، نصب کیے گئے ہیں تاکہ پانی کی سطح اور نظام کی کارکردگی کا مسلسل جائزہ لیا جا سکے۔

ڈاکٹر محسن حفیظ نے بتایا کہ 2023 میں سی ڈی اے کے نئے بلڈنگ بائی لاز کے تحت اسلام آباد میں نئی عمارتوں کے لیے رین واٹر ہارویسٹنگ کو لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ وفاقی کابینہ بھی ملک بھر میں گرین بلڈنگ کوڈز کی منظوری دے چکی ہے، جن میں بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کی شقیں شامل ہیں۔

انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ پانی کی بڑھتی ہوئی قلت سے نمٹنے کے لیے ایسے منصوبوں کو وسیع پیمانے پر فروغ دیا جائے، کیونکہ مؤثر شہری منصوبہ بندی، معاون قوانین اور عوامی شمولیت ہی ملک میں طویل المدتی آبی تحفظ کو یقینی بنا سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں