چشتیاں میں شہر کی خوبصورتی کے نام پر ہونے والے غیر معیاری تعمیراتی کام، شہریوں نے تحقیقات کا مطالبہ کر دیا

چشتیاں: شہر کو خوبصورت بنانے اور دیگر ترقیاتی کاموں کے نام پہ جاری منصوبوں پہ ہونے والے تعمیراتی کاموں کے غیرمعیاری ہونے پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ماہرین اور شہریوں نے ان کاموں کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ٹھیکیداروں کی جانب سے کیے جانیوالے بے دریغ تعمیراتی کام کا معیار انتہائی ناقص ہے۔ سیوریج سسٹم کے ڈیزائن میں بنیادی خامیاں پائی جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق سیوریج کے بہاؤ کے لیے مناسب ڈھلان (Proper Flow Gradient) اور مین ہولز کے لیے بلند بنیاد (Plinth Level) ضروری ہے، اسکے علاوہ زیادہ تر مین ہولز نیچے سے کھلے چھوڑ دیئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے گندے پانی کا زیر زمین رساؤ سلج کو نیچے بٹھا دیتا ہے اور نکاسی آب کا نظام درست طریقے سے کام نہیں کرتا۔

مقامی ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ مقامی کمیونٹیز سے بغیر مشاورت کے اندھا دھند سر سبز درخت کاٹے جا رہے ہیں جس سے ماحولیاتی خطرات پیدا ہو رہے ہیں اور مقامی شہریوں کی زندگی بھی اجیرن ہو گئی ہے۔

سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا ان ٹھیکیداروں کے پاس اس نوعیت کے تعمیراتی کام کرنے کے لیے ضروری تکنیکی قابلیت اور تجربہ موجود ہے؟ شہریوں کے مطابق ان منصوبوں میں کام کے ناقص معیار پہ جس طرح سمجھوتہ کیا جا رہا ہے اس سے مقامی انتظامیہ کی ملی بھگت اور سیاسی سرپرستی بھی واضح نظر آتی ہے۔

عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان تمام تعمیراتی منصوبوں کا از سر نو مکمل جائزہ لیا جائےاوران کی تحقیقات کسی معروف تعمیراتی کنسلٹنٹ فرم سے کروائی جائے اور ناقص اور غیر معیاری کام کرنے والے ٹھیکیداروں کے خلاف کارروائی کی جائے، اور مستقبل میں تعمیراتی کاموں کے لیے سیاسی اثر ورسوخ کی بجائے ٹھیکیداروں کی تکنیکی قابلیت کو بنیاد بنایا جائے۔ شہریوں نے مزید کہا کہ درختوں کی بلاوجہ کٹائی پر فوری پابندی عائد کی جائے ۔

متعلقہ خبریں