موسمیاتی تبدیلی سے چترال کی زراعت اور باغبانی شدید متاثر، کسانوں کی آمدن میں 60 فیصد تک کمی

چترال (مانیٹرنگ ڈیسک): موسمیاتی تبدیلی کے باعث گزشتہ چند دہائیوں سے چترال میں غیر معمولی موسمی تبدیلیاں نہ صرف سڑکوں، پلوں، آبپاشی کے نظام اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو متاثر کر رہی ہیں بلکہ زرعی شعبہ بھی شدید بحران کا شکار ہو چکا ہے۔ بے وقت بارشوں، شدید گرمی اور موسم کے غیر متوقع اتار چڑھاؤ نے فصلوں اور باغات کی پیداوار میں نمایاں کمی کر دی ہے، جس سے ہزاروں کاشتکار خاندان معاشی مشکلات سے دوچار ہیں۔

یہ بات چترال میں ماڈل فارم سروس سینٹر (MFSC) کے زیر اہتمام منعقدہ ایک آگاہی سیشن میں مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے بتایا کہ چترال کی منفرد جغرافیائی حیثیت ہمیشہ سے اعلیٰ معیار کے پھلوں، خصوصاً آڑو، ناشپاتی، خوبانی، چیری اور سیب کی پیداوار کے لیے مشہور رہی ہے، لیکن موسمیاتی تبدیلی نے اس شعبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ماڈل فارم سروس سینٹر کے صدر امیر اللہ اور دیگر عہدیداران حسین شاہ، فرید احمد اور شریف حسین نے کہا کہ چترال کے کسان اب موسم کی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے باعث روایتی زرعی نظام غیر مؤثر ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق مقامی کسانوں کی آمدن گزشتہ پانچ برسوں کے مقابلے میں 60 فیصد تک کم ہو چکی ہے، جبکہ پیداوار میں کمی کے باعث پشاور، اسلام آباد اور دیگر شہروں کو پھلوں کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ گرمی کی شدت بڑھنے سے درخت وقت سے پہلے پھول دے دیتے ہیں، جس کے بعد مئی سے جولائی کے دوران ہونے والی بے وقت اور شدید بارشیں پھلوں میں اضافی نمی پیدا کر دیتی ہیں، جس سے چیری، آڑو اور خوبانی کی فصلیں بری طرح متاثر ہوتی ہیں۔ اسی طرح سیب کی فصل کو سردیوں میں مطلوبہ ٹھنڈے موسم کی کمی، شدید گرمی اور نئے کیڑوں کے حملوں کا سامنا ہے، جس سے پیداوار اور معیار دونوں متاثر ہو رہے ہیں۔مقررین نے خبردار کیا کہ بونی، بریپ اور آرکاری جیسے چترال کے معروف سیب پیدا کرنے والے علاقوں کو گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOF) کے خطرات بھی لاحق ہیں، جو مستقبل میں زرعی شعبے کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ زیادہ درجہ حرارت اور نمی برداشت کرنے والی نئی اقسام متعارف کرائی جائیں، پھلوں کے تحفظ کے لیے جدید کولڈ اسٹوریج سہولیات فراہم کی جائیں اور چھوٹے کاشتکاروں کے لیے مؤثر زرعی انشورنس پروگرام شروع کیے جائیں تاکہ وہ مکمل مالی تباہی سے بچ سکیں۔اس موقع پر محکمہ زراعت توسیع (لوئر چترال) کے ڈپٹی ڈائریکٹر شہزاد ایوب نے کہا کہ روایتی کاشتکاری کے طریقے اب موجودہ موسمی حالات میں مؤثر نہیں رہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو چترال کو مستقل معاشی بحران اور موسمیاتی نقل مکانی (Climate Migration) جیسے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ محکمہ زراعت کسانوں کو موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے کلائمیٹ اسمارٹ فصلوں اور پھلوں کی نئی اقسام متعارف کرانے پر کام کر رہا ہے تاکہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔

متعلقہ خبریں