جنگلات کی کٹائی سے وادیٔ کیلاش کی ثقافت، ماحول اور معیشت کو سنگین خطرات لاحق
چترال: ماہرین ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ لوئر چترال کی وادی بیریر میں تیزی سے ہونے والی جنگلات کی کٹائی نہ صرف قدرتی ماحول بلکہ دنیا کی منفرد کیلاش تہذیب، معیشت اور ثقافتی شناخت کے لیے بھی سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اگر جنگلات کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ ایک بڑے انسانی، ماحولیاتی اور ثقافتی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چترال پاکستان کے ان علاقوں میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ جنگلات کی کٹائی کے باعث مٹی کا کٹاؤ، لینڈ سلائیڈنگ، اچانک آنے والے سیلاب اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOFs) کے خطرات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے، جبکہ درجہ حرارت میں اضافے اور برف باری میں کمی نے گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کا عمل بھی تیز کر دیا ہے۔
کیلاش برادری کی معیشت زراعت اور مویشی پالنے پر منحصر ہے، مگر جنگلات ختم ہونے سے زرعی پیداوار، آبپاشی کے نظام اور چراگاہوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ اخروٹ، گندم، مکئی اور دیگر فصلوں کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے جبکہ بکریوں کی تعداد میں کمی ان کی خوراک، آمدنی اور روایتی مذہبی رسومات کے لیے بھی خطرہ بن رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق کیلاش برادری کے لیے جنگلات صرف قدرتی وسائل نہیں بلکہ ان کے مذہبی عقائد اور ثقافتی شناخت کا اہم حصہ ہیں۔ جنگلات کی تباہی سے ان کے قدیم تہوار، مذہبی رسومات اور یونیسکو کی جانب سے تسلیم شدہ غیر مادی ثقافتی ورثہ بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ غیر قانونی لکڑی مافیا کی سرگرمیوں، موسمیاتی تبدیلی اور جنگلات کی مسلسل کٹائی سے علاقے میں سیاحت بھی متاثر ہو رہی ہے، جس سے مقامی افراد کی آمدنی میں کمی اور بے روزگاری میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین نے وفاقی اور خیبرپختونخوا حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملک بھر میں جنگلات کی کٹائی پر مؤثر پابندی عائد کی جائے، چترال میں جنگلات کے تحفظ کے لیے جدید سیٹلائٹ مانیٹرنگ کا نظام متعارف کرایا جائے، مقامی آبادی کو جنگلات کے تحفظ اور ماحولیاتی سیاحت میں شریک کیا جائے، جبکہ کیلاش وادیوں اور پورے چترال کے لیے پائیدار ترقی کا جامع منصوبہ تیار کیا جائے تاکہ قدرتی وسائل، حیاتیاتی تنوع اور منفرد ثقافتی ورثے کو محفوظ بنایا جا سکے۔