عالمی معیار کے مطابق خاتون کے صرف تین سی سیکشن مناسب ہیں، چار سے پانچ سی سیکشن خطرناک، وزیر صحت سندھ

کراچی: وفاقی وزارت صحت کے پاپولیشن پروگرام ونگ اور یو این ایف پی اے کے تعاون سے کنٹری انگیجمنٹ ورکنگ گروپ کے 40ویں اجلاس میں وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا ہے کہ عالمی معیار کے مطابق ایک خاتون کے تین سی سیکشن آپریشن مناسب سمجھے جاتے ہیں، تاہم پاکستان میں خواتین کے چار سے پانچ سی سیکشن بھی ہو رہے ہیں۔

کراچی کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ دو روزہ اجلاس میں وفاقی سیکرٹری صحت محمد اسلم غوری، سیکرٹری محکمہ بہبود آبادی سندھ حفیظ اللہ عباسی، سیکرٹری محکمہ بہبود آبادی خیبرپختونخوا ڈاکٹر انیلہ درانی، ڈی جی پاپولیشن پلاننگ ونگ شبانہ سلیم سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔

وزیر صحت سندھ نے کہا کہ زیادہ سی سیکشن آپریشنز کی وجہ سے بعض خواتین کی بچہ دانی نکالنا پڑتی ہے جس کے بعد فسٹولا اور دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہتر ہے کہ تیسری زچگی میں عورت اپنی نس بندی کروا لے۔

ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے زور دیا کہ خاندانی منصوبہ بندی محض عورتوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ مرد حضرات کو بھی اس میں اپنا کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال محکمہ بہبود آبادی سندھ نے 5 ہزار سے زائد ایسے مردوں کی نس بندی کی جن کی فیملی مکمل ہو چکی تھی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بڑے اسپتالوں میں وہ علاحدہ کمرے قائم کیے گئے ہیں جہاں گائنی اور آر ایچ ایس سنٹرز آنے والے مردوں کو میل موبلائزرز کے ذریعے مانع حمل کی ضرورت سے آگاہ کیا جائے گا۔

وفاقی سیکرٹری صحت محمد اسلم غوری نے کہا کہ قومی اسٹریٹجک پلان آبادی سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ ڈی جی پاپولیشن پلاننگ ونگ شبانہ سلیم نے بتایا کہ سندھ میں شروع کیا گیا ای سی آر نظام دیگر صوبوں نے بھی اپنا لیا ہے۔

اجلاس کے اختتام پر محکمہ بہبود آبادی سندھ کی جانب سے تیار کردہ پاکستان کے پہلے سرکاری اے آئی کال اسسٹنٹ کو سراہا گیا، جو مختلف مقامی اور بین الاقوامی زبانوں میں خاندانی منصوبہ بندی اور مانع حمل طریقوں سے متعلق معلومات فراہم کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں