پنجاب میں پولیو وائرس کی گردش میں نمایاں کمی، حکام نے مسلسل نگرانی پر زور دے دیا
لاہور: پنجاب میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ میں نمایاں کمی رپورٹ ہوئی ہے، جبکہ صوبائی حکام کے مطابق ویکسینیشن مہمات کی بہتر کارکردگی، مؤثر نگرانی اور حفاظتی ٹیکوں کی کوریج میں اضافے کے باعث پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی فوکل پرسن برائے پولیو اور رکن پنجاب اسمبلی عظمیٰ کاردار نے پولیو کے خاتمے سے متعلق میڈیا سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہر بچے کو پولیو سے محفوظ رکھنا پنجاب حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، تاہم مکمل خاتمے کے لیے مسلسل اقدامات اور اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی نگرانی کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برسوں کے مقابلے میں پولیو وائرس کی نشاندہی میں نمایاں کمی آئی ہے، جو بہتر مہمات، مضبوط نگرانی کے نظام اور ویکسینیشن سرگرمیوں کے مؤثر نفاذ کا نتیجہ ہے۔
عظمیٰ کاردار نے لاہور میں ہونے والی پیش رفت کو خصوصی طور پر اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں آبادی کے حجم، شہری نقل و حرکت، مہاجر آبادیوں اور پسماندہ علاقوں کے باعث لاہور پولیو کے حوالے سے ایک حساس ضلع سمجھا جاتا تھا، تاہم مؤثر منصوبہ بندی، ہائی رسک یونین کونسلز میں خصوصی اقدامات، بہتر مانیٹرنگ اور موبائل و مہاجر آبادی تک رسائی کے باعث صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کمیونٹی رابطہ کاری کے اقدامات سے ویکسینیشن پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور زیادہ خطرے والے علاقوں میں بچوں کی ویکسینیشن کوریج بہتر ہوئی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ چند بچے بھی اگر ویکسین سے محروم رہ جائیں تو وائرس کی منتقلی جاری رہ سکتی ہے، اس لیے تمام اداروں اور شراکت داروں کو ہر بچے تک پہنچنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنا ہوں گی۔
پنجاب اسمبلی کے چیف وہپ رانا محمد ارشد نے بھی پولیو کے خاتمے کے لیے محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ، ترقیاتی شراکت داروں اور فرنٹ لائن ورکرز کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پنجاب پولیو فری مستقبل کے حصول کے قریب پہنچ چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وائرس کی گردش میں کمی اور پولیو مہمات میں رہ جانے والے بچوں کے کلسٹرز میں تقریباً 41 فیصد کمی مؤثر حکمت عملی، اعداد و شمار پر مبنی منصوبہ بندی اور حکومتی نگرانی کا نتیجہ ہے۔
مقررین نے پولیو کے خاتمے میں میڈیا کے کردار کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ درست معلومات کی فراہمی، عوامی آگاہی اور ویکسین سے متعلق غلط فہمیوں کے خاتمے کے لیے میڈیا کا تعاون ناگزیر ہے۔