لاڑکانہ میں خسرہ کے کیسز میں کمی کا رجحان، ماہرین نے ویکسینیشن اور آگاہی بڑھانے پر زور دے دیا
لاڑکانہ: لاڑکانہ کے چانڈکا میڈیکل کالج چلڈرن ہسپتال میں خسرہ کے کیسز میں کمی کا رجحان سامنے آیا ہے، تاہم طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کم ویکسینیشن کوریج، غذائی قلت، بچوں کو دودھ نہ پلانے اور عوامی آگاہی کی کمی کے باعث بیماری کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا۔
چلڈرن ہسپتال کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر شانتی لال کے مطابق مارچ سے مئی کے دوران چائلڈ ہیلتھ فاؤنڈیشن (CHF) کے ذریعے ایمرجنسی میں خسرہ کے 898 کیسز رپورٹ ہوئے، جنہیں ابتدائی معائنے کے بعد ہسپتال کے وارڈز میں منتقل کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ مارچ اور مئی میں بالترتیب 304، 304 کیسز جبکہ اپریل میں 290 کیسز سامنے آئے۔ آؤٹ ڈور پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (OPD) کے اعداد و شمار کے مطابق ہر ماہ اوسطاً 150 مزید مریض بھی رپورٹ ہوئے۔
ضلعی محکمہ صحت کی سرویلنس افسر ڈاکٹر ماہک انڑ کے مطابق نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خطے کی تقریباً تمام یونین کونسلز سے خسرہ کے کیسز سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مریض لاڑکانہ، شکارپور، جیکب آباد، دادو کے میہڑ، قمبر شہدادکوٹ اور بلوچستان کے بعض علاقوں سے بھی لائے گئے، جبکہ سب سے زیادہ کیسز قمبر شہدادکوٹ سے رپورٹ ہوئے۔
ڈاکٹر شانتی لال نے بتایا کہ او پی ڈی میں آنے والے تقریباً 50 فیصد بچوں نے خسرہ کی کوئی ویکسین نہیں لگوائی تھی جبکہ باقی بچوں کی ویکسینیشن نامکمل تھی۔ انہوں نے کہا کہ لڑکے اور لڑکیاں دونوں یکساں متاثر ہوئے اور متاثرہ بچوں کی اوسط عمر تقریباً تین سال رہی۔
انہوں نے کہا کہ توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات (EPI) کی مکمل کوریج سے خسرہ کے پھیلاؤ میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق خسرہ کے ساتھ غذائی قلت اور دیگر بیماریوں کے مسائل بھی سامنے آئے ہیں۔ ہسپتال میں زیر علاج دو بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص بھی ہوئی ہے۔
شدید بیمار بچوں کے علاج کے لیے سندھ انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیونیٹولوجی (SICHN) نے چلڈرن ہسپتال میں 10 بستروں پر مشتمل انتہائی نگہداشت یونٹ (ICU) قائم کیا ہے۔ ادارے کے انچارج عمران بھٹو کے مطابق خصوصی یونٹ اور تربیت یافتہ عملے نے علاقے میں بیمار بچوں کے علاج میں اہم سہولت فراہم کی ہے۔
طبی عملے کے مطابق خسرہ کی وبا اپریل اور مئی میں عروج پر تھی، تاہم جون میں کیسز کی تعداد میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے۔ ماہرین نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پولیو مہمات کی طرز پر خسرہ سے بچاؤ کے لیے بڑے پیمانے پر ویکسینیشن مہم شروع کی جائے اور بچوں کو ماں کا دودھ پلانے کی اہمیت سے متعلق آگاہی بڑھائی جائے۔