20 منٹ کی بارش، 15 گھنٹے بعد بھی صادق آباد زیرِ آب، نکاسی آب کا نظام ناکام

صادق آباد (نمائندہ خصوصی): صادق آباد میں محض 20 سے 30 منٹ کی بارش نے نکاسی آب کے نظام کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے۔ بارش تھمنے کے تقریباً 15 گھنٹے گزرنے کے باوجود شہر کے متعدد رہائشی اور تجارتی علاقے پانی میں ڈوبے رہے، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات اور کاروباری سرگرمیوں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

متاثرہ علاقوں میں اولڈ صادق آباد، مرکزی بازار، مظہر فرید کالونی، پبلک کالونی، نیاز ٹاؤن، صادق کلب روڈ، عدالتی کمپلیکس اور دیگر اہم تجارتی مراکز شامل ہیں، جہاں سڑکوں اور گلیوں میں کھڑا پانی شہریوں کے لیے آمد و رفت میں رکاوٹ بنا رہا۔

شہریوں اور تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر چند منٹ کی بارش کے بعد شہر کا یہ حال ہے تو مون سون کے دوران صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ہر سال نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور نالوں کی صفائی کے دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن معمولی بارش بھی ان دعوؤں کی حقیقت آشکار کر دیتی ہے۔

مقامی کاروباری افراد کے مطابق بازاروں میں پانی جمع ہونے کے باعث خریداروں کی آمد متاثر ہوئی جبکہ متعدد دکانوں اور کاروباری مراکز کو مالی نقصان بھی پہنچا۔ شہریوں نے شکایت کی کہ کئی علاقوں میں گھنٹوں تک پانی نکالنے کے لیے کوئی مؤثر کارروائی نظر نہیں آئی۔

دوسری جانب چیف آفیسر بلدیہ اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی عوامی تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔ شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نکاسی آب کے نظام کا فوری جائزہ لیا جائے، برساتی نالوں کی صفائی کو یقینی بنایا جائے اور مون سون سیزن سے قبل ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسی صورتحال سے بچا جا سکے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ صاف اور محفوظ شہری ماحول کی فراہمی مقامی انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں محض دعوؤں کے بجائے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں